وزیراعظم شہباز شریف کے آذربائیجان کے دورے کے دوران پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مختلف معاہدے، تجارتی حجم 2 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق
وزیراعظم شہباز شریف کے آذربائیجان کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت، دفاع، تعلیم اور موسمیات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ، دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی حجم کو 2 ارب ڈالر تک لے جانے پر بھی اتفاق کیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، ریڈیو پاکستان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے باکو میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مزید معاہدے اپریل میں طے پائیں گے، جس سے دوطرفہ سرمایہ کاری 2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں، جو مشترکہ اقدار اور امنگوں پر مبنی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، اقتصادی تعاون کو فروغ دینے اور علاقائی سطح پر باہمی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ میڈیا کو مشترکہ بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے صدر آذربائیجان سے مخاطب ہو کر کہا، "میں آپ کا بے حد مشکور ہوں کہ آپ نے پاکستان میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔” پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر
وزیر اعظم شہباز شریف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آذربائیجان کا ایک وفد ان معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے اپریل میں پاکستان کا دورہ کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دونوں فریقوں کو تمام انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، "ان شاء اللہ، اپریل کے مہینے میں جب تمام معاملات پر غور و خوض مکمل ہو جائے گا، تو میں ان معاہدوں پر دستخط کے لیے اسلام آباد میں آپ کا استقبال کرتے ہوئے فخر محسوس کروں گا۔ یہ پریس کانفرنس دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ ملاقات کے بعد منعقد ہوئی۔ نیوز کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ "ہم غزہ میں مستقل جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہیں، اور خطے میں امن کے لیے دو ریاستی حل ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ آذربائیجان کے صدر کے ساتھ انتہائی تعمیری اور مثبت مذاکرات ہوئے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان کے ساتھ دوستی کے معاملے پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں میں مکمل اتفاق ہے، اور دونوں ممالک کے تعلقات مختلف سطحوں پر نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ "باہمی مفاد کے مشترکہ منصوبوں سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔ ہمیں قریبی دوطرفہ تعلقات کو معاشی میدان میں بھی فروغ دینا ہے، اور ہم ان معاہدوں کی تکمیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔” مزید فروغ دینا ہے۔
آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا کہ "ہم دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو فروغ دے رہے ہیں۔ ہمارے خطے کی صورتحال اور سلامتی کے امور پر یکساں نقطہ نظر ہے۔ اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "دفاعی پیداوار اور صنعتی شعبے میں بھی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ پاکستان کا دفاعی پیداوار کے میدان میں ایک اہم مقام ہے۔ اس کے علاوہ، روابط کے فروغ اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں معاونت پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔ صدر علیوف نے اس بات پر زور دیا کہ "علاقائی ترقی کے لیے مواصلاتی منصوبوں کا فروغ انتہائی ضروری ہے۔”
وزیراعظم شہباز شریف اپنے آذربائیجان کے دورے کے دوران وفود کی سطح پر مذاکرات میں بھی شرکت کریں گے، جہاں باہمی دلچسپی اور تعاون کے مختلف شعبوں پر بات چیت کی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کی قیادت آج پاک-آذربائیجان بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا آذربائیجان کا دورہ: باہمی تعلقات کے فروغ پر توجہ
وزیراعظم شہباز شریف 44 روزہ ناگورنو کاراباخ جنگ کے ہیروز اور شہدا کے لیے وقف ’یادگارِ فتح‘ پر حاضری دیں گے اور خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیں گے۔ وزیراعظم کے ہمراہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود ہیں۔ گزشتہ رات باکو پہنچنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ وہ آذربائیجان کی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے نتیجہ خیز بات چیت کے منتظر ہیں وزیراعظم نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں لکھا:
"باکو کے خوبصورت شہر میں اترا، جہاں ماضی اور مستقبل یکجا ہوتے ہیں۔ برف کی چادر اوڑھا ہوا شہر اور بھی دلکش لگ رہا ہے! انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان گہرے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، اور تجارتی و سرمایہ کاری کے تعلقات کو وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان معاہدوں کی تقریب نیوز کے مطابق پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مختلف مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے شرکت کی۔
اہم معاہدے:
- ایل این جی کی خرید و فروخت کے فریم ورک معاہدے میں ترمیمی معاہدہ طے پایا۔
- اسٹیٹ آئل کمپنی آذربائیجان (SOCAR) اور ایف ڈبلیو او کے درمیان مچلکے ٹھلیاں وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔
- اسٹیٹ آئل کمپنی آذربائیجان اور پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کے درمیان بھی مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
- آذربائیجان کے شہر نخ چیوان اور پاکستان کے شہر لاہور کے درمیان بھی ایم او یو پر دستخط کیے گئے۔
- پی ایس او اور SOCAR ٹریڈنگ SA کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔
- پی ایس او اور SOCAR ٹریڈنگ SA کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات کی خرید و فروخت کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے۔
یہ معاہدے دونوں ممالک کے درمیان توانائی، تجارت، اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ باکو میں وزیراعظم شہباز شریف کو صدارتی محل میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا وزیراعظم شہباز شریف جب آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ملاقات کے لیے باکو کے صدارتی محل پہنچے تو انہیں پرتپاک استقبال دیا گیا۔ نیوز کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف کو زوولبا صدارتی محل میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان اور آذربائیجان کے قومی ترانے بجائے گئے، جبکہ پسِ منظر میں برف باری کا دلکش منظر بھی جاری تھا۔ اہم شخصیات کی شرکت:
اس تقریب میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم، وزیر خارجہ محمد اسحٰق ڈار، وفاقی وزرا جام کمال خان، عبدالعلیم خان، چوہدری سالک حسین، عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔
وزیراعظم کا دورہ: ایک مضبوط شراکت داری کی جانب قدم
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے اور مشترکہ ترقی کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

