جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیقنیطرہ میں شامیوں کی یکجہتی کے تحفظ اور اسرائیلی قبضے کے خلاف...

قنیطرہ میں شامیوں کی یکجہتی کے تحفظ اور اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کی اپیل
ق

قنیطرہ گورنریٹ، جنوبی شام میں 22 فروری کو منعقدہ ایک مکالمہ اجلاس کے دوران شرکاء نے قومی یکجہتی کے تحفظ، اسرائیل کے زیرِ قبضہ جولان کی آزادی، اور شامی سرزمین پر اسرائیلی دراندازی کے خلاف مزاحمت پر زور دیا۔ یہ اجلاس شامی قومی مکالمہ کانفرنس کی تیاری کمیٹی کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا، جس کا مقصد شامی عوام کی آراء کو اکٹھا کر کے ملک کے مستقبل، بشمول ایک نئے آئین کی تشکیل، کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرنا ہے۔

قومی مکالمے کے نتائج نئی شامی حکومت کو غیر پابندانہ سفارشات کی صورت میں پیش کیے جائیں گے۔ یہ حکومت حیات تحریر الشام (HTS) اور اس کے رہنما، سابق القاعدہ کمانڈر احمد الشرعہ کی قیادت میں قائم کی گئی ہے۔ قنیطرہ میں ہونے والے مکالمے کے شرکاء نے ایک گورنر کی تقرری، مقامی حکمرانی کے مؤثر انتظام، عوام کو بنیادی خدمات کی فراہمی، اور قنیطرہ و جولان کے عوام کے امور کے لیے ایک خصوصی کمیٹی کے قیام کا بھی مطالبہ کیا۔

احمد الشرعہ، جنہوں نے گزشتہ ماہ خود کو شام کا صدر مقرر کر لیا تھا، کا کہنا ہے کہ نئے آئین کی تیاری میں تین سال لگیں گے، جبکہ صدارتی انتخابات کے انعقاد میں چار سے پانچ سال درکار ہوں گے۔ تاہم، بعض شامی شہریوں کو خدشہ ہے کہ الشرعہ اقتدار چھوڑنے سے انکار کر سکتے ہیں اور ملک میں سلفی نظریے پر مبنی ایک سخت گیر مذہبی حکومت مسلط کر سکتے ہیں۔

بہت سے لوگوں کو یہ بھی اندیشہ ہے کہ ملک کو مختلف نسلی گروہوں میں تقسیم کر کے علیحدہ علیحدہ سنی، دروز اور کرد علاقوں میں بانٹ دیا جائے گا۔ اس ہفتے کے آغاز میں، اسرائیلی اخبار ہارٹز (Haaretz) نے سیٹلائٹ تصاویر شائع کیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی شام کے ان علاقوں میں، جن پر وہ غیر قانونی طور پر قابض ہے، سات نئے فوجی مراکز قائم کر لیے ہیں۔

بشار الاسد کی شامی حکومت کے دسمبر میں خاتمے کے بعد، اسرائیلی فوج نے شام کے مزید علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ نئے فوجی مراکز خطے میں تعینات فوجی دستوں کے لیے آپریشنل مراکز کے طور پر کام کریں گے۔ یہاں رہائشی سہولیات، کمانڈ سینٹرز، طبی مراکز، غسل خانے، اور دیگر ضروری سہولیات تعمیر کی گئی ہیں۔

9 جنوری کو، اسرائیلی حکام نے اعلان کیا کہ وہ شام میں 15 کلومیٹر کے "زون آف کنٹرول” اور 60 کلومیٹر کے "اسفیئر آف انفلونس” پر طویل مدت کے لیے قابض رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین