برطانوی سرکاری نشریاتی ادارے پر زرمبادلہ کے ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام ثابت
بھارت کی مالیاتی جرائم کی تحقیقات کرنے والی ایجنسی نے برطانوی سرکاری نشریاتی ادارے بی بی سی کو زرمبادلہ کی خلاف ورزیوں پر جرمانہ عائد کیا ہے۔ ہندوستان ٹائمز نے ہفتے کے روز ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی۔
رپورٹ کے مطابق، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) نے بی بی سی ورلڈ سروس انڈیا پر £314,510 ($397,980) کا جرمانہ عائد کیا ہے، جو 1999 کے فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ (FEMA) کی خلاف ورزی کے باعث لگایا گیا۔
ایک نامعلوم سرکاری اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ بی بی سی انڈیا کے تین ڈائریکٹرز— جائلز انتھونی ہنٹ، اندو شیکھر سنہا، اور پال مائیکل گبنز— پر £104,836 ($132,400) کا اضافی جرمانہ بھی عائد کیا گیا، کیونکہ وہ اس دوران کمپنی کی کارروائیوں کے نگران تھے جب یہ خلاف ورزی ہوئی۔ علاوہ ازیں، 15 اکتوبر 2021 کے بعد ہر روز کی تاخیر پر $57.6 کا اضافی جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جو تعمیل کی تکمیل تک نافذ العمل رہے گا۔
ای ڈی نے یہ تحقیقات اپریل 2023 میں اس وقت شروع کی تھیں جب دو ماہ قبل دہلی اور ممبئی میں بی بی سی کے دفاتر پر ٹیکس کے چھاپے مارے گئے تھے۔ ان چھاپوں کی بنیاد کمپنی کے ٹرانسفر پرائسنگ رولز کی دانستہ خلاف ورزی اور منافع کی بڑے پیمانے پر غیر قانونی منتقلی کے شبہات پر رکھی گئی تھی۔
مقامی میڈیا کے مطابق، تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ بی بی سی ورلڈ سروس انڈیا نے اپنی ڈیجیٹل میڈیا کارروائیوں میں 100% غیر ملکی سرمایہ کاری برقرار رکھی، جو کہ حکومت کے 2019 میں مقرر کردہ 26% کی حد سے کہیں زیادہ تھی۔
بی بی سی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا:
"ہم کسی بھی فیصلے کا بغور جائزہ لیں گے اور مناسب طریقہ کار کے مطابق اگلے اقدامات پر غور کریں گے۔”
ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ہر اس ملک کے قوانین کی پاسداری کے لیے پُرعزم ہے جہاں وہ کام کرتا ہے۔
بی بی سی کی مالیاتی تحقیقات کا آغاز فروری 2023 میں اس وقت ہوا تھا جب ادارے نے وزیر اعظم نریندر مودی کی گجرات فسادات کے دوران بطور وزیر اعلیٰ کارکردگی پر مبنی ایک دستاویزی فلم نشر کی تھی۔ بھارتی حکومت نے اس فلم کو "پروپیگنڈا” قرار دے کر اس کی نمائش پر پابندی عائد کر دی اور بی بی سی پر جانبداری کا الزام لگایا۔
گجرات فسادات (2002)
فروری 2002 میں بھارتی ریاست گجرات میں اس وقت شدید فسادات پھوٹ پڑے جب گودھرا میں ایک ٹرین کے ڈبے کو آگ لگا دی گئی، جس میں 59 ہندو یاتری ہلاک ہوگئے۔ اس واقعے کے بعد ریاست بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے، جن میں 1,000 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوئے۔
اس وقت نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے، اور ان کی حکومت پر فسادات روکنے میں ناکامی اور ممکنہ ساز باز کے الزامات لگے۔ تاہم، مودی نے ان الزامات کو مسترد کیا، اور 2012 میں بھارتی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونے والی تحقیقات کے بعد انہیں بری قرار دے دیا گیا۔

