جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستاناسٹیٹ بینک کا اقدام: راست میں شراکت داری کے معیارات جاری

اسٹیٹ بینک کا اقدام: راست میں شراکت داری کے معیارات جاری
ا

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے فوری ادائیگی کے نظام میں شامل شراکت دار بینکوں کی تکنیکی صلاحیتوں کو بڑھانے، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ اور نقد لین دین کو کم کرنے کے لیے نئے معیارات متعارف کرائے ہیں۔

ڈان اخبار کے مطابق، پاکستان میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم نقدی کا استعمال اب بھی مجموعی ادائیگی کے نظام کا ایک اہم جزو ہے۔

اسٹیٹ بینک نے ادائیگی کے نظام کو مزید مؤثر اور برق رفتاری سے آگے بڑھانے کے لیے "راست” میں شراکت داری کے معیارات جاری کیے ہیں، جو ان اداروں کے لیے کم از کم تکنیکی اور عملی ضروریات کا احاطہ کرتے ہیں جو راست کے ذریعے صارفین کو ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

2021 میں متعارف کرایا گیا "راست” ایک جدید فوری ادائیگی کا نظام ہے جو بلک ادائیگیوں، فرد سے فرد (P2P) اور فرد سے تاجر (P2M) ادائیگیوں کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس کے آغاز کے بعد سے 44 ادارے، بشمول سرکاری اور اسٹیٹ بینک کے زیر انتظام مالیاتی ادارے، اس نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔

مرکزی بینک کو امید ہے کہ یہ معیارات ممکنہ شرکا کو راست پر آن بورڈنگ میں سہولت فراہم کریں گے، شرکا کی تعداد میں اضافہ کریں گے، اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے، جبکہ ادائیگیوں کی مارکیٹ میں جدت طرازی اور مسابقت کو بھی فروغ دیں گے۔

یہ معیارات بینکنگ اور نان بینکنگ اداروں کے لیے مرتب کیے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ادارے اس سہولت سے مستفید ہو سکیں اور ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کو وسعت دی جا سکے۔

اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ادارے کی شرکت کو فوری طور پر معطل یا ختم کر سکتا ہے اگر یہ عوامی مفاد کے خلاف ہو یا شراکت دار ادارہ مقرر کردہ معیارات، قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کرے۔ مزید برآں، اگر کوئی ادارہ راست کی سلامتی، سالمیت یا ساکھ کو خطرے میں ڈالے یا اپنی طے شدہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین