پاکستان نے انتباہ دیا ہے کہ وہ افغان مہاجرین، جنہیں امریکا آباد کاری کے لیے قبول کرنے سے انکار کر چکا ہے، کو غیر قانونی تارکین وطن تصور کرے گا اور انہیں ملک بدر کر دے گا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان اس معاملے پر امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن جن مہاجرین کی آبادکاری مسترد کر دی گئی ہے، انہیں ملک بدری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کے مطابق، اگر کسی پناہ گزین کو کسی دوسرے ملک کی جانب سے قانونی طریقہ کار کے تحت قبول کیا جاتا ہے تو یہ ایک علیحدہ معاملہ ہوگا، لیکن اگر کسی ملک کی جانب سے انکار کیا جاتا ہے تو ایسے افراد کو پاکستان میں غیر قانونی تارکین وطن سمجھا جائے گا۔ مزید برآں، پاکستان ایسے افراد کو ان کے آبائی ملک افغانستان واپس بھیجنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد تقریباً چھ لاکھ افغان باشندے ظلم و ستم کے خوف سے پاکستان ہجرت کر چکے ہیں، جن میں سے کئی نے تیسرے ممالک، بالخصوص امریکا میں آبادکاری کی درخواست دی۔ تقریباً 80 ہزار افغانوں کو کامیابی سے دیگر ممالک منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ 40 ہزار سے زائد افراد تاحال مشکلات کا شکار ہیں۔
ابتدائی منصوبے کے تحت، امریکا تقریباً 25 ہزار افغانوں کو آباد کرنا چاہتا تھا، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اچانک اس منصوبے کو معطل کرنے کے فیصلے نے تقریباً 20 ہزار افغانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا۔ 20 جنوری کو جاری کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت، امریکی حکام کو 90 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنی تھی کہ آیا امریکی مفادات کے مطابق پناہ گزینوں کے داخلے کے پروگرام کو دوبارہ فعال کیا جائے یا نہیں۔ اطلاعات کے مطابق، امریکا میں افغان مہاجرین کی آبادکاری کی نگرانی کرنے والے دفتر کو اپریل تک بند کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جس سے منتقلی کے منتظر افراد کی امیدوں کو مزید نقصان پہنچا ہے۔
تیسرے ممالک میں آبادکاری کے خواہشمند افغانوں میں مترجمین، امریکی حکومت اور اتحادی افواج کے معاون عملے، صحافی، انسانی حقوق کے کارکنان اور امدادی اہلکار شامل ہیں، جنہوں نے افغانستان میں بین الاقوامی برادری کی مدد کی تھی۔
نومبر 2023 میں پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں اب تک 8 لاکھ 15 ہزار سے زائد افراد کو ان کے ممالک واپس بھیجا جا چکا ہے۔
بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظر، پاکستان نے عارضی طور پر ان افغان مہاجرین کو ملک میں قیام کی اجازت دی تھی جو کسی تیسرے ملک میں آبادکاری کے منتظر تھے، تاہم اسحٰق ڈار کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مہلت جلد ختم ہو سکتی ہے۔
پاکستان اس وقت 25 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، جن میں سے نصف یو این ایچ سی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں اور ان کے قیام کی مدت جون 2025 تک بڑھا دی گئی ہے۔
گزشتہ ماہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دفتر نے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے تین مراحل پر مشتمل منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت اسلام آباد اور راولپنڈی سے افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کے لیے 31 مارچ کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی۔
بین الاقوامی سطح پر مہاجرین کو قبول کرنے پر آمادہ حکومتوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ مقررہ ڈیڈ لائن سے پہلے آبادکاری کے عمل کو تیز کریں، بصورت دیگر ان افغان مہاجرین کو افغانستان واپس بھیجنے کا خطرہ لاحق ہوگا جو تیسرے ممالک میں منتقلی کے منتظر ہیں۔

