جمعرات, فروری 12, 2026
ہوممضامین"مقاومت کا عہد: شہداء کی قربانی اور امت کی ذمہ داری"

"مقاومت کا عہد: شہداء کی قربانی اور امت کی ذمہ داری”
&

تحریر علامہ راجہ ناصر عباس

‏بسم اللہ الرحمن الرحیم

‏آج کا دن امتِ مسلمہ کے لیے صبر، عزم اور تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ آج ہم شہیدِ راہِ قدس، سید حسن نصراللہ اور شہید ہاشم صفی الدین کی تشییعِ جنازہ کے غم انگیز لمحے سے گزر رہے ہیں، آج ہم غزہ کے شہداء، بالخصوص شہید اسماعیل ہنیہ اور شہید مجاہد یحییٰ سنوار سمیت شہدائے غزہ و فلسطین و لبنان کو عقیدت و محبت کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ وہ سب جو معرکۂ حق و باطل میں راہِ قدس کے شہداء میں شامل ہوئے، آج ہم ان کی عظیم قربانیوں کو یاد کرتے ہیں، ان کی راہ پر چلنے کا عہد کرتے ہیں۔

‏یہ شہداء محض فرد نہیں، بلکہ ایک نظریہ، ایک پیغام، اور ایک لازوال داستان ہیں—ایسی داستان جو ہمیں سکھاتی ہے کہ ظلم کے ایوانوں کو لرزانے کے لیے اسلحے سے زیادہ ایمانی قوت درکار ہوتی ہے۔ آج ہم اس مبارک سرزمین انبیاء علیھم السلام (فلسطین و لبنان)کے ان جاں نثاروں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر یہ ثابت کیا کہ مظلوموں کی حمایت میں ڈٹ جانے والے کبھی کمزور نہیں ہوتے۔ حزب اللہ، حماس، اور مقاومتِ اسلامی کے وہ غیور مجاہدین، جنہوں نے یمن و عراق کے میدان کارزار میں اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر غزہ و فلسطین کے مظلومین کی حمایت میں وقت کے فرعونوں کو للکارا، وہ درحقیقت امت کے ضمیر کی آواز ہیں۔

‏یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ وہ دن اب زیادہ دور نہیں جب بیت المقدس آزاد ہوگا، جب مظلوموں کی صدائیں اور استقامت ظالموں کے تخت و تاج الٹ دیں گی، جب امریکہ اور اسرائیل جیسی غاصب طاقتوں کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ آج ہم غزہ وفلسطین کے مجاہدین کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ دنیا بھر کے تمام باشعور انسان آپ کے ساتھ ہیں۔

‏یہ معرکہ حق اور باطل کے درمیان ہے، اور کامیابی، ان شاء اللہ، اہلِ حق کا مقدر ہے!
‏⁧‫#لبيكيانصرالله‬⁩
‏⁧‫#إنّاعلىالعهد‬⁩

مقبول مضامین

مقبول مضامین