انا علی العہد#
وہ آواز جس سے برسوں سے مانوس تھے، کیسے بھلائی جا سکتی ہے؟ امامِ زمانہؑ کے باوفا سپاہی کی گونج، جو وفاداری اور عہدِ استقامت کا استعارہ ہے۔
فتحِ مبین کے موقع پر، وہ خطاب جو "یا اشرف الناس و اکرم الناس و اطہر الناس! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ” کے ولولہ انگیز الفاظ سے شروع ہوا۔ وہ لمحات جب رسول اللہؐ کی بارگاہ میں تجدیدِ بیعت کا اعلان کیا گیا: "یا رسول اللہ! میری جان، میرا خون، میرے والدین، میرے اہل و عیال، اور میرا سب کچھ آپ پر قربان! ہماری زندگیاں، ہماری نسلیں، اور ہمارے خاندان رسول اللہؐ کے شرف کے آگے کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ لبیک یا رسول اللہ!”
روزِ عاشور، "لبیک یا حسینؑ” کی روحانی گہرائی بیان کی گئی: "لبیک یا حسینؑ کا مفہوم یہ ہے کہ میدانِ حق میں ثابت قدم رہو، چاہے تنہا کیوں نہ ہو۔ اپنے اہل و عیال کے ساتھ ثابت قدمی اختیار کرنا، ایک ماں کا اپنے بیٹے کو میدانِ جنگ میں بھیجنا اور پھر اس کے سر کو تھام کر یہ کہنا کہ تُو نے مجھے سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے حضور سرفراز کر دیا، یہی حقیقی لبیک یا حسینؑ ہے۔”
عاشورہ کے دن، سید الشہداءؑ اور حضرت زینبؑ کے مصائب پر اشک بہانا، خاص طور پر وہ الفاظ دہرانا جو امام حسینؑ نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیے: "اے پروردگار! کیا تُو مجھ سے راضی ہوا؟”
سید الشہداءؑ کے اصحاب کی وفاداری کے کلمات کو یاد کرنا، زہیر بن قینؑ اور سعید بن عبداللہؑ کی جاں نثاری کو اجاگر کرنا، اور ایسا محسوس کرانا جیسے امام حسینؑ کے سامنے ہی بیعت کی تجدید ہو رہی ہو: "اگر مجھے بارہا قتل کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، اور بار بار جلایا جائے، تب بھی، اے حسینؑ، میں آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑوں گا!”
اور عصرِ حاضر میں، جب حق و باطل کی لکیر واضح کرتے ہوئے یہ اعلان کیا گیا: "و إمام ھذا المخیم ھو الإمام الخامنئی” یعنی "آج کے دور میں اس خیمۂ حسینی کی قیادت سید علی خامنہ ای کے ہاتھ میں ہے۔” اور پھر پُرعزم صدا گونجی: "ما ترکناک یا ابن الحسین” یعنی "اے فرزندِ حسینؑ! ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔”
سازشوں، جھوٹے پروپیگنڈوں اور ظلم و ستم کے باوجود اصولوں پر استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، دنیا کے سامنے واضح الفاظ میں یہ اعلان کیا گیا: "ہم، علی بن ابی طالبؑ کے شیعہ، فلسطین سے، فلسطینی عوام سے، اور اس سرزمین کے مقدسات سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔” اور بالآخر، انہی اصولوں پر اپنی جان قربان کر دینا۔
آپ کی مسکراتی ہوئی شخصیت، وہ دل کو چھو لینے والے فارسی جملے: "چشم ما روشن، دل ما شاد شد!”، "شوی شوی! یواش یواش!” یہ سب یادیں اس عہد کو تازہ کرتی ہیں کہ جو کچھ سکھایا گیا، اس پر قائم رہیں گے۔
یہی ہمارا پختہ عہد ہے کہ ہم مکتبِ حسینی کی اصل روح کے ساتھ وابستہ رہیں گے، الٰہی عدل کے قیام، اسلامی تمدن کی بحالی، اور ظہورِ حضرت حجتؑ کی راہ میں استقامت دکھائیں گے۔ اسلامی مقاومت، اسلامی انقلاب، اور بصیر و عادل قیادت کے ساتھ وفاداری نبھائیں گے۔ ظلم و استبداد کے خلاف کھڑے رہیں گے، اور ہمیشہ حق کے پرچم کو بلند رکھیں گے۔
و السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سید محمد روح اللہ رضوی
۲۴ شعبان ۱۴۴۶ ہجری، ۲۳ فروری ۲۰۲۵
روزِ تشییع شہدائے مقاومت، قم مقدسہ، ایران

