تحریر: ہنا عید
سید حسن نصراللہ ایک کرشماتی اور بااثر رہنما تھے جنہوں نے اپنی زندگی صیہونیت اور مغربی استعمار کے خلاف مزاحمت کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے حزب اللہ کو ایک مؤثر قوت میں ڈھالا، اور ان کی میراث آج بھی ایک آزاد فلسطین کے لیے برسرپیکار لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
ایسے باوقار انسان کے لیے تعزیتی کلمات لکھنا میرے لیے ایک مشکل فریضہ ہے، اور پھر بھی یہ میرے لیے باعثِ افتخار ہے۔ میں اپنی تحریر کا آغاز امام خمینیؒ کے ان الفاظ سے کرنا چاہوں گا، جو انہوں نے آیت اللہ محمد بہشتی کی شہادت پر کہے تھے: "ہمارے لیے، وہ ایک قوم تھے۔” یہ الفاظ سید حسن نصراللہ پر بھی صادق آتے ہیں—ہمارے لیے، نصراللہ ایک قوم ہیں، ایک پہاڑ ہیں، اور جنرل قاسم سلیمانی، یحییٰ سنوار، محمد ضیف، اسماعیل ہنیہ، ابو علی مصطفی اور ہزاروں دیگر شہداء کے ساتھ "شہید القدس” کا باوقار لقب رکھتے ہیں۔
معروف محقق اوری لی داہر کے مطابق، سید حسن نصراللہ "31 اگست 1960 کو بیروت کے مشرقی مضافاتی علاقے شرشابوک میں پیدا ہوئے۔ بیروت کے نواح میں غریب علاقوں میں زیادہ تر نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے شیعہ افراد آباد تھے، اور نصراللہ کا خاندان بھی انہی میں شامل تھا۔”
بزدل صیہونیوں نے سید حسن نصراللہ کو شہید کرنے کے لیے پورے شہر کے کئی بلاکس کو تباہ کر دیا۔ برسوں تک ان کی جان لینے کی صیہونی کوششیں ناکام رہیں، کوئی صیہونی فوجی ان تک نہ پہنچ سکا، اور نہ ہی کوئی مخبر اپنی اطلاع بروقت اپنے آقاؤں تک پہنچا سکا۔ یوں، ان کی شہادت ایک آگ کے طوفان میں آئی۔ جیسے ان کی زندگی بیروت کے مزدور طبقے کے علاقوں میں شروع ہوئی تھی، ویسے ہی وہ لبنانی عوام کے درمیان شہید ہوئے۔
سید حسن نصراللہ نے اپنی جدوجہد کا آغاز امل تحریک میں شمولیت سے کیا، اور بعد ازاں 1982 میں پاسدارانِ انقلاب کے تربیتی کیمپوں میں شامل ہوئے۔ یہاں انہوں نے ان کسانوں، مزدوروں، اور علماء کے ساتھ تربیت حاصل کی جو بعد میں حزب اللہ کا مرکزی دھارا بنے۔ جب وہ تہران سے تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دے کر واپس روانہ ہوئے تو امام خمینیؒ نے انہیں ایک آخری پیغام دیا: "جو چیز اہم ہے، وہ یہ کہ تم کام کرو… تم میں سے بہت سے اپنی کوششوں کے ثمرات نہیں دیکھ پائیں گے۔”
سید حسن نصراللہ اور حزب اللہ کی قیادت جانتی تھی کہ ان کا مقدر شہادت ہے، مگر اس نے انہیں کبھی متزلزل نہ کیا۔ 1993 میں حزب اللہ کے متعدد رہنماؤں کی شہادت کے بعد سید حسن نصراللہ کو تنظیم کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔ انہوں نے مزاحمت کی قیادت سنبھالی اور جنوبی لبنان میں صیہونی قبضے کے خلاف ایک نئی لہر کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں 2000 میں قابض افواج کو بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اس منصب پر اپنی شہادت تک خدمات انجام دیں۔ حزب اللہ کے جھنڈے پر موجود قرآنی آیت: "فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ” (بے شک، اللہ کی جماعت ہی غالب رہتی ہے) واقعی سید حسن نصراللہ اور لبنانی مزاحمتی تحریکوں کے لیے ایک سچا اعلانِ حق ہے۔
سید حسن نصراللہ کی تقاریر پورے عرب اور اسلامی دنیا میں دیکھی جاتی تھیں، حتیٰ کہ صیہونی ریاست میں بھی بسنے والے جانتے تھے کہ جب سید نصراللہ کوئی وعدہ کرتے ہیں، تو وہ اسے پورا کرتے ہیں۔ انہوں نے لبنان، فلسطین، اور اسلامی دنیا کے مظلوم عوام کے لیے انتھک محنت کی۔ وہ جغرافیائی سیاست، مذہب اور تاریخ کا گہرا شعور رکھتے تھے اور انہیں اپنی تقاریر میں مہارت سے سمو دیتے تھے۔ ایک مشہور تقریر میں، انہوں نے کربلا کے معرکے میں حضرت ابو الفضل العباسؑ کے کردار کو فلسطینی عوام کے عدسے سے بیان کیا:
"ہم سے کہا جاتا ہے، اس جنگ کو چھوڑ دو، تمہیں امن ملے گا؛ اس جنگ کو چھوڑ دو، تم زندہ رہو گے، اور تمہیں دہشت گردوں کی فہرست سے نکال دیا جائے گا… دہشت گردی ان کے نزدیک مزاحمت ہے، ملت کا دفاع ہے، فلسطینی عوام کی حمایت ہے، اس امت کی عزتوں اور مقدسات کا دفاع ہے۔ ہم ان سے کہتے ہیں… اور تم سب گواہ رہنا… جیسے عباس، ابن علیؑ نے کربلا میں کہا تھا… تم ہمیں امن کی پیشکش کرتے ہو، جبکہ فلسطین کے مجاہدین کو کوئی امن حاصل نہیں، القدس کو کوئی امن حاصل نہیں، مسجد اقصیٰ کو کوئی امن حاصل نہیں… تمہارے اس امن پر خدا کی لعنت ہو!”
سید حسن نصراللہ نے صیہونی سازشوں کے تحت پیدا کی گئی شیعہ-سنی تفریق کے خلاف بھی بھرپور مزاحمت کی۔ اپنی تقاریر میں، انہوں نے وہابی دہشت گرد گروہوں کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا، جنہیں امریکہ، یورپ، اور سعودی عرب نے خطے میں چھوڑا تھا۔ وہ مزاحمتی محاذ (Axis of Resistance) کے ایک کلیدی ستون تھے اور اس کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
حزب اللہ کے جنگجوؤں کی ایسی متعدد تصاویر اور شہادتیں موجود ہیں جن میں وہ داعش کے حملوں کے دوران پادریوں اور راہباؤں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، جو اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ سید نصراللہ کی قیادت میں مزاحمت کا اسلامی تشخص سب مذاہب کے ماننے والوں کے دفاع پر مشتمل تھا۔
سید حسن نصراللہ کی کرشماتی شخصیت کا ایک پہلو ان کی مسکراہٹ تھی، جو وہ کسی سیاسی حملے یا نئے قوانین کی سادہ تشریح کرتے وقت سجاتے تھے۔ انہوں نے اپنا بیٹا مزاحمت کے لیے قربان کیا، مگر کبھی کسی ظالم کے آگے سر نہ جھکایا، نہ کسی صیہونی دھمکی کے آگے پیچھے ہٹے۔
الفاظ کم پڑ جاتے ہیں جب سید حسن نصراللہ کے اثرات کو بیان کرنا ہو۔ کوئی جملہ ان کے کردار، ان کے عوام کو متحرک کرنے کی صلاحیت، اور ان کی قربانیوں کا مکمل احاطہ نہیں کر سکتا۔ ان جیسا کوئی اور نہیں۔
ہمارے لیے، وہ ایک قوم تھے۔
ہمارے لیے، وہ ایک پہاڑ تھے۔
لیکن ان کے اپنے الفاظ کے احترام میں، وہ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ وہ اپنے وقت اور جگہ کے ایک عام انسان تھے—نہ زیادہ، نہ کم۔
اور اسی حقیقت کی روشنی میں، ان کی شہادت کا جذبہ اور ان کی عوامی محبت آج بھی ہم سب میں زندہ ہے، جو فلسطین کی آزادی کے لیے برسرِپیکار ہیں۔

