تحریر: ٹم اینڈرسن
تمام مشکلات کے باوجود، سامراجیت اور صیہونیت کے خلاف مزاحمت اور خطے کے آزاد عوام کی فتح کا عزم ایک زندہ حقیقت ہے، جو ہر باعزت انسان کے لیے مشعلِ راہ بنی ہوئی ہے۔
یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ہمارے درخشاں رہنما کو ایسے مجرموں نے نشانہ بنایا، جن کے پاس کوئی غیر معمولی صلاحیت نہ تھی، سوائے اس کے کہ وہ ایک پورے شہر پر دور دراز کے آقاؤں کے فراہم کردہ تباہ کن بموں کی بارش کر سکیں۔
سید حسن نصراللہ کی جدائی آج بھی لبنان کے عوام اور دنیا بھر کے باضمیر انسانوں کے دلوں میں محسوس کی جا رہی ہے۔ یمن میں ان کی تصویر تمام بڑے شہروں کی شاہراہوں پر آویزاں ہے، جہاں غیر ملکی تسلط کا سایہ نہیں، اور وہ وہاں کے شہداء کی یادگاروں میں بھی نمایاں مقام رکھتی ہے۔
دنیا میں کم ہی ایسے روحانی رہنما دیکھے گئے ہیں جو بیک وقت سیاسی بصیرت کے حامل تجزیہ کار اور ایک مضبوط فوجی قائد بھی ہوں۔ نصراللہ ایک اخلاقی رہنما، حوصلہ دینے والے سرپرست، اور ایک منفرد شخصیت تھے۔ ان کا اثر و رسوخ محض ایک روایت نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ جیسا کہ ایک عرب رہنما نے کہا، وہ خود ایک راستہ بن گئے جس پر بے شمار لوگ چلتے رہیں گے۔
انہوں نے لبنانی فرقہ وارانہ نظام کو چھیڑے بغیر ایک مزاحمتی نیٹ ورک تشکیل دیا، جو قومی یکجہتی کی علامت بنا اور آزاد اقوام کے علاقائی اتحاد کا محور بن گیا۔ ان کی قیادت میں یہ اتحاد مذہبی و مسلکی تفریق سے بالاتر رہا۔ ان کے الفاظ گیتوں کا حصہ بنے اور عوام کے دلوں میں بس گئے۔
اسرائیلی ان کی تقاریر کے منتظر رہتے تھے۔ وہ الفاظ جو مغربی ممالک میں ممنوع قرار دیے گئے، اسرائیلی حلقوں میں لازم مطالعہ سمجھے جاتے تھے۔ کئی ممالک میں ان کے الفاظ اور تصاویر پر پابندی کی کوششیں ان کی اخلاقی طاقت اور وقار کا مظہر ہیں۔ حسن نصراللہ اپنے عظیم ساتھی، ایرانی مزاحمتی رہنما قاسم سلیمانی کے ساتھ شامل ہو گئے، جنہیں استعماری قوتوں نے "خطرہ” تصور کیا، حتیٰ کہ ان کی شہادت کے بعد بھی۔
انہی وجوہات کی بنا پر، ان کی میراث کو محفوظ رکھنے کے خواہاں افراد کو محتاط رہنا ہوگا کہ اسے کہاں اور کس طرح شیئر کیا جائے، کیونکہ کئی مغربی میڈیا پلیٹ فارمز ان کے الفاظ کو حذف کر دیتے ہیں اور انہیں پھیلانے والوں پر قدغن لگاتے ہیں۔
تاہم، جو لوگ ان کے خیالات کی جستجو کریں گے، انہیں ان کی لازوال معنویت ملے گی۔ نصراللہ ہمیشہ صیہونی ریاست کے پیچھے امریکی سرپرستی کو دیکھتے تھے۔ وہ حقائق سے پردہ اٹھانے والے رہنما تھے، جیسا کہ انہوں نے کہا:
"کچھ نظریات کے مطابق، اسرائیل امریکہ کو کنٹرول کرتا ہے۔ نہیں جناب، حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اسرائیل کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہودی اور صیہونی لابی کی کہانی محض ایک بہانہ ہے، جو عربوں نے اسرائیل سے جنگ نہ کرنے کے لیے تراشا۔ وہ امریکہ جاتے ہیں، اپنا سرمایہ وہاں جمع کراتے ہیں اور تعلقات قائم کرتے ہیں، یہ کہہ کر کہ وہ عرب لابی تشکیل دے رہے ہیں تاکہ یہودی لابی کا مقابلہ کر سکیں۔ پچھتر سال بعد ہم دیکھ سکتے ہیں کہ عرب لابی نے کیا حاصل کیا؟ عربوں کا سرمایہ امریکی خزانوں میں جمع ہو رہا ہے، بس اتنا ہی۔”
سید نصراللہ کی خطابت مذہبی دعاؤں سے شروع ہوتی، لیکن ان کے بیانات میں انسانی قدریں شامل ہوتیں، جو مختلف ثقافتوں میں یکساں طور پر سمجھی جا سکتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے سامعین وسیع اور متنوع تھے۔ معروف یہودی دانشور نارمن فنکل اسٹائن نے نصراللہ کے بارے میں کہا، "وہ دنیا کے واحد سیاسی رہنما ہیں جن کی تقریروں سے آپ کچھ سیکھ سکتے ہیں۔” وہ واقعی ایک عظیم استاد تھے، اور ان کی تقاریر کا کئی بار ازسرِ نو مطالعہ کیا گیا۔
سید حسن کی غزہ کے لیے حمایت نے انہیں اور ان کے سینکڑوں ساتھیوں کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے پر مجبور کیا، لیکن وہ جانتے تھے کہ یہ جدوجہد کا ناگزیر تقاضا ہے۔ ان کا مقصد مقبوضہ فلسطین کے شمال میں دشمن کی فوج کو نشانہ بنا کر غزہ پر دباؤ کم کرنا تھا، تاکہ دشمن کی صفیں بکھر جائیں۔ حزب اللہ کی کارروائیاں ہمیشہ اخلاقی اصولوں سے جڑی رہیں، اور ہر قربانی کو "راہِ قدس کا شہید” کہا جاتا۔
یہ قربانی پورے خطے میں گونجی، خاص طور پر لبنان میں، جہاں نصراللہ کے 2006ء کی جارحیت کے خلاف جنگ لڑنے والے سپاہیوں کے لیے کہے گئے الفاظ کو مسیحی گلوکارہ جولیا بطرس نے گیت "احبائی” میں محفوظ کیا۔ یہ گیت معروف ہے اور زیادہ تر مسیحی سامعین اسے جوش و جذبے سے گاتے ہیں۔ جولیا نے اس گانے کی آمدنی حزب اللہ کے جنگجوؤں کے اہلِ خانہ اور لبنانی شہداء کے خاندانوں کے لیے وقف کی۔
یہ ہیں اس گیت کے کچھ الفاظ:
"میں نے تمہارا پیغام وصول کیا اور تمہاری باتیں سنیں … تم وہ حقیقی وعدہ ہو جو، ان شاء اللہ، فتح میں ڈھلے گا۔ تم اسیرانِ جنگ کی آزادی، زمین کی بازیابی، اور وطن، عزت اور ایمان کے محافظ ہو۔ میرے بھائیو! تم اس امت کی تاریخ کا جوہر اور اس کی روح کا مظہر ہو … تم اس کی ثقافت، اقدار، محبت اور شکرگزاری کا استعارہ ہو … تم اس کی مردانگی کے علمبردار ہو، ہمارے پہاڑوں کی دیودار کی ابدیت ہو، اور گندم کی بالیوں کی عاجزی ہو … لبنان کے شاندار پہاڑوں کی مانند بلند، طاقتوروں پر غالب … خدا کے بعد، تم ہی ہماری امید ہو، اور ہمارا وعدہ تم سے وابستہ ہے، تم تھے، ہو، اور رہو گے امید اور وعدہ، میں ان سروں کو چومتا ہوں جنہوں نے ہر سر کو بلند کر دیا۔”
ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی نے کہا، "میں نے کسی کو یہ الفاظ سنتے ہوئے نہیں دیکھا جو نہ رویا ہو۔” سید حسن سے جذباتی وابستگی آج بھی برقرار ہے، ان کے ایمان، اسلامی اور انسانی اقدار، اور ان کے الفاظ و اعمال کے تسلسل کی بدولت۔
سال 2024ء میں، ایک سخت بارش نے ہمارا دھڑکتا دل چھین لیا، لیکن ہم اب بھی زندہ ہیں۔
ہم تصور نہیں کر سکتے کہ ان کی زندگی کا مشن ان کی شہادت کے ساتھ تمام ہو گیا۔ تمام مشکلات کے باوجود، سامراجیت اور صیہونیت کے خلاف مزاحمت اور خطے کے آزاد عوام کی فتح کا عزم ایک زندہ حقیقت ہے، جو ہر باعزت انسان کے لیے مشعلِ راہ بنی ہوئی ہے۔

