جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیایرانی عہدیدار: حزب اللہ کے شہداء کی تدفین، مزاحمت کی قیامت کا...

ایرانی عہدیدار: حزب اللہ کے شہداء کی تدفین، مزاحمت کی قیامت کا استعارہ
ا

ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے لبنانی حزب اللہ کے شہید رہنماؤں کی تدفین کو ” قیامتِ مزاحمت ” قرار دیا ہے، جبکہ اس تاریخی تقریب کی باضابطہ تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ میں قونصلر، پارلیمانی اور بیرون ملک ایرانی امور کے نائب، وحید جلال زادہ نے اپنے ایک سرکاری بیان میں کہا:

"بیروت میں شہید مجاہد، سید حسن نصراللہ اور شہید سید ہاشم صفی الدین کا جنازہ، مزاحمت کی قیامت اور اس کے نئے عہد کی علامت بن جائے گا۔”

بیروت اتوار کے روز ایک وسیع پیمانے پر منظم جنازے کی میزبانی کرے گا، جس میں 78 ممالک کے سرکاری وفود کی شرکت متوقع ہے۔

جلال زادہ نے مزید کہا:

"میں پارلیمنٹ اور وزارت خارجہ کے ایک سرکاری وفد کے ہمراہ لبنان روانہ ہو رہا ہوں تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کی اس اہم موقع پر شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس موقع پر عوام مزاحمت کے قائدین کے ساتھ اپنی وفاداری کے عہد کی تجدید کریں گے، اور ہم ان کی شرکت کو ہر ممکن طور پر آسان بنانے کے لیے اقدامات کریں گے۔”

انتظامات اور تیاریوں کا جائزہ

ایرانی حکومت کے ایک باضابطہ وفد نے بیروت میں کمیل شمعون اسپورٹس اسٹیڈیم کا دورہ کیا، جہاں جنازے کے انتظامات اور تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ لبنان میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، اسٹیڈیم میں تقریب کے منتظمین نے ایرانی وفد کو ان تمام تنظیمی اور لاجسٹک اقدامات سے آگاہ کیا، جو اس تقریب کے محفوظ اور منظم انعقاد کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ متوقع غیرمعمولی عوامی شرکت کے پیش نظر، انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

سرکاری جنازہ: شیڈول اور تفصیلات

تقریب کی نگرانی کرنے والی کمیٹی نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ سرکاری جنازہ اتوار کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر 1:00 بجے شروع ہوگا اور اسے سات مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔

کمیٹی کے سرکاری بیان میں کہا گیا:

"23 فروری ایک ایسا دن ہوگا جو دنیا بھر کے آزادی پسندوں کی یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔”

کمیٹی نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ ایک وسیع عوامی اجتماع کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، اور اس جنازے کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہوگی۔

تقریب کے نگران، شیخ علی ظاہر نے کہا:

"متعدد اعلیٰ سرکاری شخصیات، بشمول صدرِ مملکت اور اسپیکر پارلیمنٹ، جنازے میں شرکت کریں گے۔”

انہوں نے مزید تصدیق کی کہ ایرانی حکومت کے "اعلیٰ ترین سطح کے عہدیداران” بھی اس تقریب میں شریک ہوں گے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل، شیخ نعیم قاسم، جنازے کے دوران ایک اہم خطاب کریں گے، جس میں مزاحمت کے مستقبل سے متعلق اہم نکات پر روشنی ڈالی جائے گی۔

پسِ منظر: اسرائیلی حملے اور شہادتیں

سید حسن نصراللہ 27 ستمبر 2024 کو اسرائیل کی جانب سے جنوبی بیروت پر کیے گئے ایک بڑے فضائی حملے میں شہید ہوئے۔ اسرائیلی فضائیہ نے اس کارروائی میں 85 ٹن دھماکہ خیز مواد استعمال کرتے ہوئے الضاحیہ کے علاقے میں چھ رہائشی عمارتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا۔ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایک ہفتے تک جاری رہنے والی وسیع پیمانے پر بمباری کا حصہ تھا، جس میں جنوبی لبنان سے بیروت تک متعدد مقامات نشانہ بنے۔

اسی طرح، سید ہاشم صفی الدین کو اکتوبر 2024 میں ایک علیحدہ اسرائیلی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

سلامتی خدشات کے پیش نظر، حزب اللہ نے دونوں رہنماؤں کی تدفین کو مؤخر کر دیا تھا، تاکہ تقریب کے دوران ممکنہ اسرائیلی حملوں سے بچا جا سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین