جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستانوزیرِاعظم کا سمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف سخت نوٹس

وزیرِاعظم کا سمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف سخت نوٹس
و

وزیرِاعظم شہباز شریف نے 78 مبینہ کرپٹ کسٹمز افسران اور سمگلرز پر مشتمل ایک وسیع سمگلنگ نیٹ ورک کی نشاندہی پر فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ اس نیٹ ورک کے اراکین کے درمیان رقوم کی غیر قانونی منتقلی اور تقسیم کا ایک منظم نظام قائم تھا۔

وزیرِاعظم کے دفتر نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے رپورٹ طلب کی ہے، جس میں اس نیٹ ورک کے وجود کی تصدیق اور تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ نیٹ ورک ملک کی ایک ممتاز انٹیلیجنس ایجنسی کے انکشاف کے بعد منظر عام پر آیا، جس پر ایف بی آر نے تحقیقات کا آغاز کیا۔

ایف بی آر نے آگاہ کیا ہے کہ اس معاملے کی مکمل چھان بین جاری ہے، اور تحقیقاتی رپورٹ 28 فروری تک پیش کر دی جائے گی۔ یہ انکوائری چیف کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ اور کلیکٹر کسٹمز اپریزمنٹ کراچی کی سربراہی میں کی جا رہی ہے۔ وزیرِاعظم اس معاملے کی براہ راست نگرانی کر رہے ہیں، جس سے ان کی کرپشن کے خاتمے اور قومی خزانے کو نقصان سے بچانے کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔

یہ نیٹ ورک غیر قانونی طریقے سے بغیر ڈیوٹی ادا شدہ اشیاء، بشمول سگریٹ، ٹائر اور کپڑے، کوئٹہ سے ملتان، ڈیرہ غازی خان، لاہور اور راولپنڈی تک پہنچانے میں ملوث تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اس نیٹ ورک میں 37 کسٹمز افسران اور 41 نجی سمگلرز شامل ہیں، جن میں کئی اہم عہدوں پر فائز افسران بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، بعض افسران نے اس غیر قانونی دھندے میں سہولت کاری کے عوض ماہانہ کروڑوں روپے وصول کیے۔ بعض افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے چھوٹے پیمانے پر سمگلنگ کرنے والوں کو اس نیٹ ورک میں شامل ہونے پر مجبور کیا، جبکہ دیگر نے غیر قانونی اشیاء کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے ڈیوٹی شفٹوں میں مداخلت کی۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ رشوت کی رقم 20 لاکھ سے 3 کروڑ روپے ماہانہ تک تھی، جس کا کچھ حصہ مبینہ طور پر بیرون ملک منتقل کیا جاتا رہا۔ مزید برآں، ایک افسر پر شراب اور بغیر ڈیوٹی ادا شدہ آئی فونز کی سمگلنگ میں سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے، جبکہ دوسرا افسر غیر قانونی سامان کی کلیئرنس کے لیے عملے کی تقرری اور تبادلوں میں مداخلت کرتا رہا۔

وزیرِاعظم نے ہدایت دی ہے کہ اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر بے نقاب کرکے تمام ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ سمگلنگ اور کرپشن کے ناسور کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین