اعلیٰ عسکری قیادت میں تبدیلیاں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین، جنرل چارلس ‘سی کیو’ براؤن کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے جنرل براؤن کی 40 سال سے زائد خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
دیگر اعلیٰ افسران کی برطرفی
صدر ٹرمپ نے مزید پانچ اعلیٰ فوجی افسران کی تبدیلی کا بھی اعلان کیا۔ جنرل براؤن، جو امریکی تاریخ میں اس عہدے تک پہنچنے والے دوسرے سیاہ فام فوجی افسر تھے، صدر اور وزیر دفاع کو قومی سلامتی کے اہم امور پر مشاورت فراہم کرتے تھے۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ جنرل براؤن کو فوج میں تنوع، مساوات اور شمولیت کے فروغ کے لیے شروع کیے گئے پروگراموں پر توجہ مرکوز کرنے کی وجہ سے برطرف کیا گیا۔
مزید افسران کی معزولی اور نئی قیادت
جمعے کے روز وزیر دفاع نے چیف آف نیول آپریشنز، ایڈمرل لیسا فرینچیٹی، اور ایئر فورس کے وائس چیف آف اسٹاف، جنرل جیمز سلائف کو بھی برطرف کر دیا۔ ایڈمرل فرینچیٹی، امریکی بحریہ کی قیادت سنبھالنے والی پہلی خاتون تھیں۔
یہ برطرفیاں ان افسران پر اثر انداز ہوئیں جن کی تقرری سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں ہوئی تھی۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا، "صدر ٹرمپ کی قیادت میں ہم ایک نئی فوجی کمان تشکیل دے رہے ہیں، جس کا بنیادی مقصد دشمن پر برتری قائم رکھنا، جنگ کے لیے تیار رہنا اور فیصلہ کن کامیابیاں حاصل کرنا ہے۔”
نئے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف چیئرمین کی نامزدگی
صدر ٹرمپ نے ایئر فورس کے لیفٹیننٹ جنرل ڈین کین کو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے نئے چیئرمین کے طور پر نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جنرل ڈین ایف-16 کے پائلٹ رہ چکے ہیں اور حال ہی میں سی آئی اے میں عسکری امور کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

