جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامینائل البرغوثی: اسرائیلی قید میں 45 سال گزارنے والا فلسطینی رہنما

نائل البرغوثی: اسرائیلی قید میں 45 سال گزارنے والا فلسطینی رہنما
ن

رہائی کے منتظر ایک قیدی

اسرائیل اور حماس کے مابین قیدیوں کے تبادلے کے تحت نائل البرغوثی کی ممکنہ رہائی کی خبر نے فلسطینی عوام میں امید کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔ مغربی کنارے کے علاقے کوبر سے تعلق رکھنے والے البرغوثی نے گزشتہ منگل اپنے اہل خانہ کو فون کر کے اطلاع دی کہ اگلے مرحلے میں انھیں آزادی مل سکتی ہے۔ ان کے خاندان نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے النقب جیل سے اپنی اہلیہ سے بھی رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ جمعرات یا ہفتے کے روز رہا کیے جا سکتے ہیں۔

ایک تاریخی قیدی

فلسطینی مزاحمت کی تاریخ میں نائل البرغوثی ایک نمایاں شخصیت ہیں، جنھوں نے اسرائیلی جیلوں میں سب سے طویل عرصہ، تقریباً 45 سال، گزارا ہے۔ فلسطینی قیدیوں کے امور کی اتھارٹی کے مطابق، اسی وجہ سے انھیں ’قیدیوں کے باپ‘ کا لقب دیا گیا ہے۔

67 سالہ البرغوثی نے اپنی زندگی کا دو تہائی حصہ اسرائیلی حراست میں گزارا ہے، جن میں مسلسل 34 سال کی قید بھی شامل ہے۔

گرفتاری اور ابتدائی زندگی

1978 میں انھیں رام اللہ کے قریب ایک اسرائیلی ڈرائیور کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور 18 سال قید کی سزا دی گئی۔ کچھ ذرائع کے مطابق، انھیں ایک اسرائیلی فوجی کے قتل کے الزام میں بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

اسرائیلی قید کے دوران ان کی سیاسی وابستگی الفتح سے حماس میں منتقل ہو گئی، ایک ایسا وقت جب اوسلو معاہدے پر مذاکرات جاری تھے۔

ابتدائی زندگی اور مزاحمت میں شمولیت

نائل البرغوثی کا تعلق مغربی کنارے کے کوبر گاؤں کے معروف برغوثی خاندان سے ہے، جس میں کئی نمایاں فلسطینی شخصیات شامل ہیں، جیسے مروان البرغوثی، جو آج بھی اسرائیلی قید میں ہیں۔ نائل نے اپنی ابتدائی تعلیم کوبر اور برزیت کے اسکولوں میں مکمل کی۔

1967 میں اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کے فوراً بعد وہ فلسطینی مزاحمت میں شامل ہو گئے۔ بچپن میں ہی وہ اپنے بھائی عمر اور کزن فخری کے ساتھ اسرائیلی بسوں کے راستے بلاک کرنے اور دیواروں پر مزاحمتی نعرے لکھنے جیسے اقدامات میں سرگرم تھے۔

قیدیوں کے تبادلے اور دوبارہ گرفتاری

2011 میں، اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت 1,027 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا، جن میں نائل البرغوثی بھی شامل تھے۔ رہائی کے بعد انھوں نے امان نافع سے شادی کی اور اپنے گاؤں کوبر واپس لوٹ آئے۔

2014 میں اسرائیل نے دوبارہ انھیں گرفتار کر لیا، اس بار یہ الزام لگایا گیا کہ انھوں نے اپنی رہائی کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔ بعض اسرائیلی ذرائع کے مطابق، ان کی گرفتاری کی بنیادی وجہ ان کی برزیت یونیورسٹی میں کی گئی تقریر اور ان کی ممکنہ تقرری بطور فلسطینی قیدیوں کے امور کے وزیر تھی۔

موجودہ صورتحال

نائل البرغوثی کو ابتدائی طور پر 30 ماہ قید کی سزا سنائی گئی، جو 2016 میں پوری ہو گئی، مگر انھیں رہا نہیں کیا گیا۔ بعد میں، 2017 میں اسرائیلی عدالت نے ان کی 1978 میں دی گئی عمر قید کی سزا بحال کر دی۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی حکام نے ان کے خلاف ’خفیہ معلومات‘ کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا۔

ان کے وکیل نے ان کی سزا کے خلاف متعدد درخواستیں دائر کیں، مگر اب تک کوئی مثبت فیصلہ نہیں آیا۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق، 2022 میں فوجی عدالت نے ان کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سزا برقرار رکھی۔ اب فلسطینی عوام ایک بار پھر امید کر رہے ہیں کہ نائل البرغوثی کو اس مرتبہ آزادی ملے گی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین