یہ معاملہ اس امر کو اجاگر کرتا ہے کہ ایلون مسک کی سیاسی وابستگی کس طرح ٹیسلا کے کاروبار پر اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر ایسے خطے میں جہاں فلسطین کے حق میں زبردست عوامی حمایت موجود ہے۔
ٹیسلا کو ملائیشیا میں شدید بائیکاٹ کے مطالبات کا سامنا ہے کیونکہ اس کے سی ای او، ایلون مسک، نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر قبضہ کرنے اور فلسطینیوں کی مستقل بے دخلی کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔
مسک کے ٹرمپ کی حمایت کے بعد، ملائیشیا کے شہریوں نے سوشل میڈیا پر ٹیسلا کی نئی ماڈل وائی "جونیپر” گاڑی پر سخت تنقید کی، یہاں تک کہ اسے "سواستیکار” کا لقب دیا۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، یہ اصطلاح اس وقت مشہور ہوئی جب مسک کو ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری کے دوران ایک ایسا ہاتھ کا اشارہ کرتے دیکھا گیا جو نازی سلیوٹ سے مشابہ تھا۔
مسک نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ان کے ناقدین کو "بہتر چالاک حربے” اپنانے چاہئیں، اور انہوں نے مسلسل ہٹلر سے اپنی موازنہ کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا۔
دی ایج ملائیشیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، بڑھتے ہوئے بائیکاٹ کے مطالبات اور ٹیسلا کے ممکنہ پیداواری منصوبوں سے متعلق خدشات کے باوجود، کمپنی کا ملائیشیا میں مینوفیکچرنگ پلانٹ اب بھی زیرِ غور ہے۔ ملائیشیا کے وزیر برائے سرمایہ کاری، تجارت اور صنعت، زفرال عبدالعزیز نے بتایا کہ ٹیسلا علاقائی اور مقامی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی مسابقت کے پیشِ نظر اپنے تجارتی امکانات کا جائزہ لے سکتی ہے۔
20 فروری کو پارلیمنٹ (دیوان راکیت) سے خطاب کرتے ہوئے زفرال نے وضاحت کی کہ 2023 میں ملائیشیا اور ٹیسلا کے درمیان ہونے والی ابتدائی بات چیت الیکٹرک وہیکل (EV) سے متعلق بنیادی ڈھانچے، بشمول چارجنگ اسٹیشنز اور فروخت کے مراکز کے قیام پر مرکوز تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر کئی جنوب مشرقی ایشیائی ممالک بھی ٹیسلا کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن چینی برانڈز جیسے BYD، MG، گریٹ وال موٹر، اور نیٹا کے ساتھ بڑھتی ہوئی مسابقت نے ان کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
زفرال نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ ٹیسلا کو عالمی سطح پر فروخت کے اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ حریف برانڈز کی جانب سے کم قیمت، مگر جدید ٹیکنالوجی سے لیس الیکٹرک گاڑیاں متعارف کرانا ہے۔
مزید برآں، ملائیشیا کی قومی آٹو کمپنی پروٹون نے دسمبر 2024 میں اپنی نئی الیکٹرک گاڑی e.MAS متعارف کرائی، جو ملک کی پہلی مکمل الیکٹرک کار ہے۔ یہ اقدام ملائیشیا کے پائیدار نقل و حرکت (sustainable mobility) کے فروغ کے عزم میں ایک اہم پیش رفت کی علامت ہے۔

