سید حسن نصراللہ کی خطابت محض الفاظ یا تقاریر سے کہیں بڑھ کر تھی۔ جب بھی وہ مخاطب ہوتے، ان کی باتوں میں ایسی گہرائی اور تاثیر ہوتی جو سننے والوں کے دل میں اتر جاتی۔ ان کی گفتگو کی فنکاری کی ایک جھلک پیشِ خدمت ہے۔
سید حسن نصراللہ کی شخصیت میں ایک غیر معمولی کشش تھی، جو محض ان کے الفاظ یا مسکراہٹ سے کہیں آگے تھی۔ ان کا لہجہ ہمیشہ پُرسکون اور پُراعتماد ہوتا، جس سے سامعین کے دل میں سکون اور یقین پیدا ہوتا۔ دشمن انہیں عوام کو گمراہ کرنے والا قرار دیتے رہے، مگر ان کے الفاظ میں پروپیگنڈہ نہیں، بلکہ ایک ایسی قیادت کا جوہر نظر آتا جو اپنی سچائی اور خلوص سے پہچانی جاتی۔
رہنما کا اثر انگیز طرزِ گفتگو
ان کی تقاریر محض الفاظ کی ترتیب نہیں تھیں، بلکہ انہیں نہایت باریک بینی سے ترتیب دیا جاتا تھا۔ وہ اپنی سامعین کی امیدوں، خوف اور جدوجہد کو سمجھتے ہوئے خلوص کے ساتھ ان سے مخاطب ہوتے۔ ان کی باتیں سننے والوں کو صرف معلومات فراہم نہیں کرتیں، بلکہ ان سے جڑت پیدا کرتی تھیں۔ غیر یقینی حالات میں تسلی اور سخت حالات میں حوصلہ دیتے تھے۔ وہ اپنے پیغام کو عوام تک پہنچانے کا گہرا شعور رکھتے تھے اور ہر طبقے کے دل کو چھونے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
قیادت کی قوت
سید حسن نصراللہ جدید عرب دنیا کے مؤثر ترین رہنماؤں میں سے ایک ہیں، اور حزب اللہ کی تاریخ کے نازک مواقع پر ان کی تقاریر ان کی قائدانہ صلاحیت کا مظہر رہی ہیں۔ ان کی شخصیت کا اثر انگیز پہلو محض ان کے پیغام میں نہیں بلکہ ان کے منفرد خطیبانہ اسلوب، جذباتی ذہانت، اور غیر متزلزل اعتماد میں بھی پوشیدہ تھا۔ مذہبی حوالے، تاریخی سیاق و سباق، اور حکمت عملی پر مبنی ابلاغ کے ذریعے انہوں نے ایک کرشماتی رہنما کی خصوصیات کا ثبوت دیا۔
مثال کے طور پر، 26 مئی 2000 کو اسرائیلی انخلا کے بعد انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز سورۃ القصص کی ایک آیت سے کیا جو مظلوموں کے ظالموں پر غلبے کی بات کرتی ہے۔ اس قرآنی حوالہ نے حزب اللہ کی فتح کو ایک عظیم تاریخی جدوجہد سے جوڑ دیا، جس سے عوام کے اندر ایک نئی روح پیدا ہوئی۔ اسی طرح، واقعہ کربلا اور امام خمینی کی معروف عبارت "خون نے تلوار پر فتح پائی” کا حوالہ دے کر انہوں نے اپنی جدوجہد کو عدل و انصاف کی جنگ سے جوڑ دیا۔
ثابت قدمی اور حوصلہ
2006 کی جنگ کے دوران ان کا پُرسکون اور مضبوط لہجہ مثالی تھا۔ 14 جولائی 2006 کی تقریر میں انہوں نے سورۃ آل عمران کی آیت پڑھی: "اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تمہیں شکست نہیں دے سکتا۔” اس قرآنی پیغام نے ان کے سامعین کو طاقت اور حوصلہ دیا۔ شہداء کے اہل خانہ سے مخاطب ہو کر انہوں نے قربانیوں کو سراہا اور انہیں وقار کا احساس دلایا۔
مزاحمت کے محور
سید حسن نصراللہ نے ہمیشہ اتحاد کی بات کی۔ انہوں نے لبنانی عوام کے سامنے دو راستے رکھے: اسرائیلی تسلط قبول کرنا یا مزاحمت کی قوت پر یقین رکھنا۔ وہ ہمیشہ اپنے وعدے پر قائم رہے اور اپنے تاریخی جملے "جیسے میں نے پہلے فتح کا وعدہ کیا تھا، میں دوبارہ وعدہ کرتا ہوں” کے ذریعے عوام کو یقین دہانی کراتے رہے۔
جب حزب اللہ کے عسکری کمانڈر عماد مغنیہ کی شہادت ہوئی، تو سید نصراللہ نے دشمنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حزب اللہ کی قوت کو کمزور نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ شہادت سے تنظیم مزید مضبوط ہوتی ہے، اور تاریخ نے ان کے الفاظ کو سچ ثابت کیا۔
ایک مثالی قیادت
سید حسن نصراللہ کی قیادت صرف سیاسی فتوحات تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ ان کے لوگوں سے گہرے جذباتی تعلق کی عکاس بھی تھی۔ ان کا انداز ہمیشہ سامعین کے جذبات اور احساسات کو سمجھنے والا تھا۔ وہ لوگوں کے دکھ اور تکلیف کو طاقت میں بدلنے کی صلاحیت رکھتے تھے، جس نے انہیں نہ صرف ایک قابلِ رشک رہنما بلکہ ایک جذباتی طور پر ذہین قائد کے طور پر بھی منوایا۔
یہی وجہ ہے کہ 28 ستمبر 2024 کو جب ان کی شہادت کی خبر آئی، تو ہزاروں لوگ یتیم محسوس کرنے لگے۔
"تمہارے بغیر، دنیا کا کوئی بھی رنگ باقی نہیں رہا۔”

