ایران کی جوہری توانائی تنظیم (AEOI) کے سربراہ کا کہنا ہے کہ امریکہ جنوب مغربی شہر دارخوین میں کرون پاور پلانٹ کی تعمیر کو روکنے میں ناکام رہا ہے، اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسلامی جمہوریہ دشمنوں کی سازشوں کے باوجود اپنی پُرامن جوہری سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
محمد اسلامی نے کرون پاور پلانٹ کے تعمیراتی مقام پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’پوری دنیا جانتی ہے کہ ایران جوہری بجلی گھر کی تعمیر کا علم حاصل کر رہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا: ’’اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہم دشمنوں کی پابندیوں اور دباؤ کی پرواہ نہیں کرتے۔ ہم اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لیے اس راستے پر گامزن رہیں گے جو ہم نے اپنے لیے متعین کیا ہے۔‘‘
اسلامی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے علم میں ایک ’’اہم کھلاڑی‘‘ بن چکا ہے اور یہ کہ ’’دشمن اس عظیم کامیابی کو برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘
انہوں نے مختلف شعبوں، بشمول طب اور زراعت میں، اس علم کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ کے سائنسدانوں کو قتل کر کے، پابندیاں عائد کر کے یا اقتصادی دباؤ ڈال کر دشمن ایران کو اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روک نہیں سکتے۔
AEOI کے سربراہ نے 300 میگاواٹ کے کرون پاور پلانٹ کی تعمیر کے حوالے سے کہا کہ یہ منصوبہ ’’ترقی کی راہ پر گامزن‘‘ ہے۔
اسلامی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران دباؤ کے باوجود اپنی پُرامن جوہری سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے اور کہا: ’’بارہ سال قبل، امریکہ نے دارخوین جوہری بجلی گھر کے تعمیراتی عمل کو روکنے کی کوشش کی تھی، جہاں ہم اس وقت موجود ہیں، لیکن وہ ناکام رہا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا: ’’ہمارے نوجوانوں اور سائنسدانوں کی مدد سے اس کی تعمیر جاری رہی۔ 300 میگاواٹ کے کرون پاور پلانٹ کی تعمیر ملک کی ترقی کی ایک علامت ہے۔‘‘
اسلامی نے کہا کہ جوہری توانائی تنظیم نے اس منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ ملک میں بجلی گھروں کی توسیع کے منصوبے کا حصہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ بجلی گھر پریشرائزڈ واٹر ری ایکٹر (PWR) قسم کا ہوگا اور 300 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ تقریباً 50 ہیکٹر کے رقبے پر کرون دریا کے قریب تعمیر کیا جائے گا۔

