بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیالیکٹرانک انتفاضہ کے صحافی کی گرفتاری: سوئٹزرلینڈ میں گہرے صیہونی نقوش بے...

الیکٹرانک انتفاضہ کے صحافی کی گرفتاری: سوئٹزرلینڈ میں گہرے صیہونی نقوش بے نقاب
ا

تحریر: ڈیوڈ ملر

الیکٹرانک انتفاضہ، جو کہ فلسطین کے حق میں ایک آزاد اور خودمختار خبری ویب سائٹ ہے، کے ڈائریکٹر علی ابونعمہ کو حال ہی میں سوئٹزرلینڈ میں گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں ملک بدر کر دیا گیا۔

اس گرفتاری کا بنیادی سبب زیورخ کے سیکیورٹی وزیر ماریو فہر کو قرار دیا جا رہا ہے، جن کے بارے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ ایک انتہا پسند صیہونی ہیں۔

ویب سائٹ "گرے زون” کی رپورٹ کے مطابق، فہر نے 10 اکتوبر 2023 کو "اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کے مظاہرے” میں واضح طور پر کہا تھا کہ "اسرائیل اور اس کے باشندوں کا مقدر میرے دل کے قریب ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں قائم مزاحمتی تحریک حماس اور اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ سے "اسرائیل اور یہودیوں کی تباہی” کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

فہر کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ:
"جو شخص عورتوں کی عصمت دری کرتا ہے، بوڑھوں کو قتل کرتا ہے، بچوں کو اغوا کرتا ہے، لاشوں کی بے حرمتی کرتا ہے، اور بے شمار معصوم لوگوں کو یرغمال بناتا ہے، وہ مذاکرات کا اہل نہیں بلکہ ایک درندہ، قاتل اور دہشت گرد ہے۔”

انہوں نے گولڈا مئیر کے اس قول کو بھی دہرایا:
"آپ کسی ایسے شخص سے امن کی بات نہیں کر سکتے جو آپ کو قتل کرنے آیا ہو۔ حماس اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ امن ممکن نہیں!”

لیکن کیا سوئٹزرلینڈ میں صیہونیت کا اثر و رسوخ صرف ایک کرپٹ عہدیدار تک محدود ہے؟

آئیے اس کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں صیہونی نیٹ ورک

صیہونی تحریک کی قیادت مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں قائم ورلڈ صیہونیت آرگنائزیشن (WZO) کر رہی ہے، جس کے ساتھ تین کلیدی اتحادی ادارے مل کر "اسرائیلی قومی ادارے” کہلاتے ہیں۔

یہ چاروں ادارے ہر اس ملک میں اپنی شاخیں قائم کرتے ہیں جہاں صیہونی تحریک منظم ہوتی ہے، اور سوئٹزرلینڈ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں سوئس صیہونی فیڈریشن (Swiss Zionist Federation) WZO کی مقامی شاخ کے طور پر کام کرتی ہے اور تمام صیہونی گروہوں کو اکٹھا کرتی ہے۔

اس کے علاوہ، "جیوئش نیشنل فنڈ” (JNF) کی ایک شاخ بھی یہاں موجود ہے، جو کہ صیہونی تحریک کی سب سے بڑی زمین ہتھیانے والی ایجنسی سمجھی جاتی ہے۔ معروف اسرائیلی مؤرخ ایلان پاپے نے اسے "نسلی تطہیر کے لیے ایک نوآبادیاتی ایجنسی” قرار دیا ہے۔

یہ شاخ "KKL-JNF سوئٹزرلینڈ” کہلاتی ہے اور اپنی سرکاری ویب سائٹ پر اعتراف کرتی ہے کہ یہ اسرائیل میں قائم مرکزی دفتر کے ساتھ قریبی روابط رکھتی ہے۔

دیگر صیہونی تنظیمیں

سوئٹزرلینڈ میں صیہونی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے اور اس کے نظریات کو فروغ دینے کے لیے کئی دیگر تنظیمیں بھی سرگرم ہیں:

سوئٹزرلینڈ-اسرائیل سوسائٹی (GIS)
یہ تنظیم 1957 میں قائم ہوئی تھی اور سوئٹزرلینڈ میں اسرائیل کے لیے حمایت کو مضبوط بنانے کا کام کرتی ہے۔ اس کے 10 مقامی دفاتر ہیں، اور اس نے سوئس حکومت سے حماس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی کونسل آف جیوئش کمیونٹیز (ECJC)
یہ 1968 میں قائم ہوا تھا اور 30 سے زائد یورپی ممالک میں 50 سے زیادہ یہودی تنظیموں، کمیونٹیز اور اداروں کا نیٹ ورک چلاتا ہے۔

سوئس جیوئش ریفیوجی ایڈ ایسوسی ایشن (VSJF)
اس تنظیم کو گیبریل روزن سٹین چلاتی ہیں، جو کہ ECJC کی نائب صدر بھی ہیں۔

انٹر ریلیجئیس ڈائیلاگ (Interreligious Dialogue)
بظاہر یہ ایک بین المذاہب مکالمے کی تنظیم ہے، لیکن حقیقت میں اس کا مقصد صیہونیت کو "معمول” بنانا ہے۔

NAIN (Never Again Is Now)
یہ ایک نئی تنظیم ہے جس کا مقصد "اسرائیل کو اینٹی صیہونی ایجنڈے سے بچانا” ہے۔ اس گروپ نے علی ابونعمہ کی گرفتاری کے بارے میں جھوٹا پروپیگنڈہ کیا اور انہیں "اسلام پسند یہود دشمن” قرار دیا۔

سوئٹزرلینڈ اور صیہونیت کا تاریخی تعلق

سوئٹزرلینڈ کا صیہونی تحریک سے تعلق کوئی نئی بات نہیں۔

1897 میں بازل، سوئٹزرلینڈ میں پہلی صیہونی کانگریس منعقد ہوئی۔

1946 تک 22 صیہونی کانگریسوں میں سے 10 بازل میں ہوئیں۔

2022 میں صیہونی تحریک کے 125 سال مکمل ہونے پر WZO نے ایک عظیم الشان تقریب بھی بازل میں منعقد کی۔

موجودہ صورتحال اور سیاسی دباؤ

IHRA کی متنازعہ تعریف کی منظوری
سوئس وفاقی حکومت نے جون 2021 میں IHRA کی صیہونیت نواز تعریف کو سرکاری طور پر قبول کیا، جس کے ذریعے صیہونیت کے خلاف کسی بھی تنقید کو "یہود دشمنی” قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسرائیل-سوئٹزرلینڈ پارلیمانی فرینڈشپ گروپ
2023 میں انتہا پسند اسرائیلی جماعتوں شاس اور یسرائیل بیتینو کے اراکین پارلیمنٹ نے برن میں سوئس حکام سے ملاقات کی۔

CICAD (کمیونٹی کوآرڈینیشن اگینسٹ اینٹی سیمیٹزم اینڈ ڈیفیمیشن)
اس تنظیم کو جوان گورفنکل چلاتے ہیں، جو ایک قدامت پسند صیہونی ہیں اور فلسطین کے حامی مظاہروں کو یہود دشمنی سے جوڑنے کی مہم چلا رہے ہیں۔

نتیجہ

سوئٹزرلینڈ میں صیہونی تحریک نہ صرف گہرائی تک سرایت کر چکی ہے بلکہ اسے سرکاری اداروں، سیاسی رہنماؤں اور بین الاقوامی نیٹ ورکس کی حمایت بھی حاصل ہے۔

علی ابونعمہ کی گرفتاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صیہونی طاقتیں، جو دنیا بھر میں اپنے مخالفین کو خاموش کروانے کے درپے ہیں، یورپ کے دل میں بھی کس قدر مضبوطی سے پنجے گاڑ چکی ہیں۔

لیکن کیا صیہونیت کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکنا ممکن ہوگا؟ یہ ایک مشکل، مگر ضروری جدوجہد ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین