کاش پٹیل امریکی سینیٹ سے معمولی برتری کے ساتھ ایف بی آئی ڈائریکٹر مقرر
واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے 51 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے کاش پٹیل کو نیا ایف بی آئی ڈائریکٹر مقرر کر دیا۔ وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حامی اور سخت گیر پالیسیوں کے حامی تصور کیے جاتے ہیں۔ ریپبلکنز میں تقسیم، دو سینیٹرز نے مخالفت کی
اس ووٹنگ میں ریپبلکن سینیٹرز سوسن کولنز اور لیزا مرکووسکی نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر پٹیل کی نامزدگی کی مخالفت کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی تقرری پر ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اختلافات موجود تھے۔
پٹیل کا عزم: "اچھے پولیس افسران کو کام کرنے دو”
پٹیل نے ووٹنگ کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر اپنے پیغام میں کہا:
"میرا مشن واضح ہے: اچھے پولیس افسران کو ان کا کام کرنے دو – اور ایف بی آئی پر عوام کا اعتماد بحال کرو۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ بیورو کے دیانتدار افسران اور شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر ایف بی آئی کو ایک ایسا ادارہ بنانے کے لیے کام کریں گے جس پر امریکی عوام فخر کر سکیں۔
ٹرمپ کی حمایت اور پالیسی وژن
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کاش پٹیل کو "امریکہ فرسٹ” کا حقیقی سپاہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی بدعنوانی کو بے نقاب کرنے، انصاف کا دفاع کرنے، اور امریکی عوام کی حفاظت کے لیے وقف کی ہے۔
متنازعہ پالیسیوں کی حمایت
پٹیل سابق وفاقی وکیل اور عوامی محافظ رہ چکے ہیں اور وہ منظم جرائم، دہشت گردی، اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت کارروائی کے ٹرمپ کے وعدے کے مضبوط حامی رہے ہیں۔
اس کے علاوہ، وہ سرکاری اداروں میں "ڈائیورسٹی، ایکوئٹی، اور انکلوژن (DEI) پروگرامز” ختم کرنے کے بھی حامی ہیں، جس پر امریکہ میں شدید بحث جاری ہے۔ سخت گیر پالیسیوں کی تیاری؟
کاش پٹیل کی تقرری کے بعد، توقع کی جا رہی ہے کہ ایف بی آئی کی پالیسیوں میں نمایاں سختی آئے گی، اور وہ ٹرمپ کے ایجنڈے کے مطابق داخلی سکیورٹی، امیگریشن، اور دہشت گردی کے خلاف مزید سخت اقدامات کریں گے۔ کاش پٹیل کی ایف بی آئی قیادت پر تنقید اور ڈیموکریٹس کی مخالفت
واشنگٹن: ایف بی آئی کے نئے ڈائریکٹر کاش پٹیل ماضی میں ادارے کی اختیارات پر قدغن لگانے اور "سرکاری جبر” کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کے باعث متنازع رہے ہیں۔ اپنی یادداشتوں میں، انہوں نے "ڈیپ اسٹیٹ” پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ریاستی طاقت کو اندرونی مخالفین کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ ڈیموکریٹس کی شدید مخالفت
پٹیل کے ان خیالات پر ڈیموکریٹس نے انہیں "انتہا پسند” قرار دیا۔ سینیٹ ڈیموکریٹک وہپ ڈک ڈربن نے انہیں "انتہائی میگا (MAGA) وفادار” قرار دیا جو ملک کو کم محفوظ بنا سکتا ہے۔
پٹیل کی وضاحت: "کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی”
سینیٹ کی توثیقی سماعت میں، پٹیل نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے حکومتی عہدیداروں کی کوئی "مخالفین کی فہرست” مرتب نہیں کی اور یقین دہانی کرائی کہ ان کی قیادت میں ایف بی آئی کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کرے گی۔ "ایف بی آئی میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ کا دعویٰ: ایف بی آئی کو میرے خلاف استعمال کیا گیا
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جو بائیڈن انتظامیہ پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ایف بی آئی اور دیگر ایجنسیوں کو ان کے اور ان کے اتحادیوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ ٹرمپ کی انٹیلیجنس ٹیم کی تشکیل
اس سے قبل، ٹرمپ کی نامزد کردہ نئی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس، تلسی گبرڈ (ہوائی سے سابق رکنِ کانگریس) کو اسی ماہ سینیٹ نے توثیق دے دی تھی۔
سیاسی منظرنامہ مزید سخت ہونے کا امکان
پٹیل کی تقرری اور ایف بی آئی کی ممکنہ اصلاحات سے امریکی سیاست میں مزید سختی اور تقسیم کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، خاص طور پر 2024 کے انتخابات کے بعد ٹرمپ کے اقتدار میں واپسی کے پیش نظر۔

