پاکستان کے پیٹرولیم ڈیلرز کا ڈی ریگولیشن پالیسی پر شدید ردعمل، ملک گیر ہڑتال کی وارننگ
ایکسپریس نیوز کے مطابق، پاکستان کے پیٹرولیم ڈیلرز نے حکومت کی ڈی ریگولیشن پالیسی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ملک بھر میں پٹرول پمپس بند کرنے کا عندیہ دیا ہے آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالصمد خان نے ایک ویڈیو پیغام میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے سے اسمگلنگ اور ملاوٹ میں اضافہ ہوگا، جس سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوگا بلکہ عوام کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ڈی ریگولیشن فارمولا پیٹرول پمپ مالکان کو اپنی مرضی سے قیمتیں مقرر کرنے کی اجازت دے گا، جس سے ملک بھر میں قیمتوں میں عدم توازن اور غیر منصفانہ نرخوں کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ پیٹرولیم ڈیلرز کا ہنگامی اجلاس طلب، ملک گیر احتجاج کی تیاری
صورتحال کے پیش نظر، مرکزی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہے، اور ملک بھر میں احتجاجی بینرز آویزاں کیے جانے کا امکان ہے۔ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالصمد خان نے انکشاف کیا کہ وزارت پیٹرولیم کو ڈی ریگولیشن پالیسی کے خلاف ہنگامی احتجاجی خط بھیجا جائے گا، جس میں منافع کے مارجن میں اضافے کا بھی مطالبہ کیا جائے گا۔ ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ فی لیٹر مارجن 13 روپے کیا جائے، جو اس وقت 4 فیصد کے قریب ہے۔ اگرچہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ڈیلرز کے موقف کی حمایت کی ہے، تاہم انہوں نے اس معاملے پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا۔
ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ میں دوبارہ اضافہ
چیئرمین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران سے پیٹرول کی اسمگلنگ دوبارہ بڑھ رہی ہے اور وفاقی حکومت کو چاہیے کہ غیر قانونی تجارت کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ باضابطہ معاہدہ کرے۔
انہوں نے وزیر مملکت مصدق ملک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت پیٹرولیم ڈیلرز کے تحفظات کو نظر انداز کر رہی ہے، اور یہ بھی واضح کیا کہ ڈی ریگولیشن کا عمل عوام کے لیے سستا ایندھن فراہم کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوگا۔

