جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامی89 فیصد والدین بچوں کو مصروف رکھنے کیلئے گیجٹس دیتے ہیں، سروے

89 فیصد والدین بچوں کو مصروف رکھنے کیلئے گیجٹس دیتے ہیں، سروے
8

ایک نئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 89 فیصد والدین سفر کے دوران یا اپنے لیے کچھ فارغ وقت نکالنے کے لیے بچوں کی تفریح ​یا انہیں مصروف رکھنے کے لیے گیجٹس استعمال کرتے ہیں۔  رپورٹ کے مطابق عالمی سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل پرائیویسی کمپنی ’کاسپراسکائی‘ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ، ترکیہ اور افریقہ (میٹا) خطے میں نصف سے زیادہ یعنی 53 فیصد بچے تین سے سات سال کی عمر کے درمیان اپنی پہلی ذاتی ڈیوائس، اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ حاصل کرتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں نے خود اعتراف کیا کہ گیجٹس نے ان کی زندگی میں اہم کردار ادا کیا، 78 فیصد نے کہا کہ وہ اپنے گیجٹس کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور گیم کنسولز بچوں کے لیے انتہائی مطلوبہ آلات میں سے ہیں۔

سائبرسیکیورٹی ایجنسی نے کہا کہ گیجٹس کا مروجہ استعمال بچوں کے لیے ان خطرات کو سمجھنے کی اہم ضرورت پر زور دیتا ہے جو انہیں آن لائن لاحق ہوسکتے ہیں اور ڈیوائسز کے مناسب اصولوں اور رہنما خطوط کے ذریعے انہیں محفوظ طریقے سے کیسے کم کرنا ہے۔

تاہم، میٹا خطے میں تقریباً ایک چوتھائی جواب دہندگان (22 فیصد) نے کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے اصولوں پر گفتگو نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، "اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ بچے، جو زیادہ تر اپنی ڈیوائسز کے ساتھ اکیلے ہوتے ہیں، ہمیشہ یہ نہیں جانتے کہ آن لائن رہتے ہوئے محفوظ طریقے سے کیسے برتاؤ کرنا چاہیے کاسپراسکائی کے مشرق وسطیٰ، ترکیہ اور افریقہ میں کنزیومر چینل کے سربراہ، سیف اللہ جدیدی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر والدین اپنے بچوں کو مصروف رکھنے، اپنے لیے وقت نکالنے یا انہیں پرسکون کرنے کے لیے ڈیجیٹل گیجٹس فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "تاہم، بچوں کو ڈیجیٹل ڈیوائسز کے بے قابو استعمال سے بچانا ضروری ہے، اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر بہتر نگرانی رکھیں سیف اللہ جدیدی نے تجویز دی کہ والدین اسکرین کے استعمال کا وقت محدود کریں، بچوں کو ڈیجیٹل سیکیورٹی کے بارے میں آگاہ کریں اور پیرنٹل کنٹرولز کو نافذ کریں۔ ان اقدامات کے ذریعے والدین اور سرپرست اپنے بچوں کی انٹرنیٹ رسائی کو محدود اور مانیٹر کر سکتے ہیں، تاکہ وہ غیر مناسب ویب سائٹس تک نہ پہنچ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ والدین کی جانب سے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنا ان پر عدم اعتماد کا اظہار نہیں، بلکہ یہ ایک معقول احتیاطی تدبیر ہے جس سے نہ صرف بچوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے بلکہ ڈیوائس اور اس میں موجود ڈیٹا کو بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

مزید وضاحت کرتے ہوئے، سیف اللہ جدیدی نے کہا کہ ان کنٹرولز کے ذریعے والدین اس بات پر پابندی لگا سکتے ہیں کہ ان کے بچے کون سی ویب سائٹس دیکھ سکتے ہیں اور کون سی گیمز کھیل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ کنٹرولز غیر ضروری فائل ڈاؤن لوڈز کو روکنے، غیر موزوں مواد تک رسائی کو محدود کرنے اور خفیہ معلومات کے افشا ہونے سے بچانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین