رہبر انقلاب اسلامی، آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا اسلامی جمہوریہ کی قطعی پالیسی ہے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کے روز تہران میں قطر کے امیر، شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے خلیج فارس کے اس ملک کو ایک "دوستانہ اور برادر” ملک قرار دیا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی حکومت کی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو سراہا، جس کی ایک مثال قطری امیر کا دورہ ایران ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس دورے کے دوران طے پانے والے معاہدے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے اور وہ پہلے سے زیادہ مؤثر طریقے سے اپنی ہمسائیگی کی ذمہ داریاں نبھا سکیں گے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے ایران اور خطے کے حوالے سے امریکی پالیسیوں پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "امریکہ کے صدور میں کوئی فرق نہیں ہے۔” انہوں نے ایران کے ان مالی وسائل کا ذکر کیا جو حال ہی میں منجمد اثاثوں کی صورت میں جنوبی کوریا سے قطر منتقل کیے گئے ہیں اور کہا کہ امریکہ ہی وہ بنیادی رکاوٹ ہے جو ان اثاثوں کی ایران واپسی میں حائل ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ توقع رکھتا ہے کہ قطر امریکی دباؤ کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا، "اگر ہم قطر کی جگہ ہوتے تو واشنگٹن کے دباؤ کو نظر انداز کرتے اور یہ اثاثے واپس کر دیتے۔ ہمیں اب بھی قطر سے اسی اقدام کی توقع ہے۔”
قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے دنیا بھر کے مظلوم عوام کی حمایت پر ایران کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کی فلسطینی عوام کے لیے غیر متزلزل حمایت کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خطے کی پیچیدہ صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات علاقائی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کے متقاضی ہیں۔
امیر قطر نے ایران اور قطر کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کا بھی ذکر کیا، جن میں دونوں ممالک کو جوڑنے والی ایک زیرِ آب سرنگ کی تعمیر اور مشترکہ کمیشن کی فعالیت شامل ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تبادلے مزید بڑھیں گے۔

