ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مغربی ایشیا کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور کسی بھی "نوآبادیاتی طاقت” کو فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
بدھ کے روز آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے 15ویں عمومی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قالیباف نے کہا، "بدقسمتی سے، حالیہ مہینوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ صیہونیوں اور امریکہ نے لبنان اور غزہ میں اپنی عسکری اور تزویراتی ناکامی کے بعد خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ خطے میں مزید سیاسی سازشیں تیار کر رہے ہیں۔”
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ "فریب پر مبنی” بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے غزہ پر "قبضہ” اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کا منصوبہ "نوآبادیاتی اور استبدادی پالیسیوں کے تسلسل” کا ایک اور ثبوت ہے اور "مظلوم فلسطینی عوام کے حقوق کی صریح خلاف ورزی” کی ایک مثال ہے۔
قالیباف نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کا منصوبہ، جسے انہوں نے "نسلی تطہیر، جدید قبضے اور نسلی امتیاز کی ایک شکل” قرار دیا، خطے کی پہلے سے ہی "نازک” سلامتی کی صورتحال کو مزید بگاڑ دے گا اور نئے چیلنجز اور بحرانوں کو جنم دے گا۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا، "فلسطین کا مستقبل نہ تو امریکہ اور نہ ہی کسی اور نوآبادیاتی طاقت کے ذریعے طے کیا جائے گا۔ اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اور صرف فلسطینی قوم کو حاصل ہے۔”
قالیباف نے دنیا بھر کے آزاد فکر افراد، خودمختار ریاستوں اور بین الاقوامی تنظیموں، بشمول ایشیائی پارلیمانی اسمبلی، سے مطالبہ کیا کہ وہ "اس نئی سازش کے خلاف فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت، نہ صرف گفتار بلکہ عملی طور پر بھی کریں۔”
انہوں نے کہا کہ خطے کے بحران کا واحد حل غزہ میں مستقل جنگ بندی، اسرائیلی فوج کا فلسطین، لبنان اور شام سے مکمل انخلا، فلسطینیوں کی غیر مشروط واپسی، اور غزہ میں فوری اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کی فراہمی ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے رواں ماہ کے آغاز میں وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھال کر اسے اپنی ملکیت بنا لے گا، اور وہاں کے 24 لاکھ باشندوں کو اردن اور مصر جیسے ممالک میں منتقل کر دے گا۔
یہ متنازعہ تجویز عالمی سطح پر شدید مخالفت کا سامنا کر چکی ہے، اور قاہرہ و عمان نے اس کھلی سازش کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس کے جواب میں، ٹرمپ انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مصر اور اردن نے 20 لاکھ سے زائد غزہ کے باشندوں کو قبول نہ کیا تو انہیں نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ کی اشتعال انگیز تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی حکومت پندرہ ماہ سے زائد عرصے تک غزہ میں جنگ چھیڑنے کے باوجود اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس عرصے میں اسرائیلی افواج نے کم از کم 48,297 فلسطینیوں کو شہید کیا، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔

