ٹرمپ کے ریمارکس چند گھنٹے بعد آئے جب زیلنسکی نے امریکی صدر پر روسی "گمراہ کن معلومات” کے جال میں پھنسنے کا الزام لگایا۔
ٹرمپ نے زیلنسکی کو "معمولی کامیاب کامیڈین” اور "بغیر انتخابات کے آمر” قرار دے دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے یوکرینی ہم منصب ولودیمیر زیلنسکی کو "معمولی کامیاب کامیڈین” اور "بغیر انتخابات کے آمر” قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر وہ روس کے ساتھ جلد از جلد امن معاہدہ نہیں کرتے تو یوکرین سب کچھ کھو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر لکھا:
"وہ [زیلنسکی] انتخابات کرانے سے انکار کر رہے ہیں، یوکرین میں ان کی مقبولیت بہت کم ہے، اور واحد چیز جس میں وہ مہارت رکھتے تھے وہ بائیڈن کو اپنی مرضی کے مطابق قابو میں رکھنا تھا۔ بغیر انتخابات کے آمر، زیلنسکی کو جلدی فیصلہ لینا ہوگا ورنہ ان کے پاس ملک ہی نہیں بچے گا۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے کامیابی سے مذاکرات کر رہی تھی، اور یہ کہ یہ کام صرف وہ اور ان کی ٹیم ہی مکمل کر سکتی ہے ٹرمپ نے مزید کہا: "ذرا سوچیں، ایک معمولی کامیاب کامیڈین، ولودیمیر زیلنسکی، نے امریکہ کو 350 ارب ڈالر خرچ کرنے پر مجبور کر دیا، ایک ایسی جنگ میں جو جیتی نہیں جا سکتی تھی، جو شروع ہونے کی ضرورت ہی نہیں تھی، لیکن ایک ایسی جنگ جسے وہ، امریکہ اور ‘ٹرمپ’ کے بغیر، کبھی ختم نہیں کر پائیں گے۔” "مجھے یوکرین سے محبت ہے، لیکن زیلنسکی نے انتہائی خراب کارکردگی دکھائی ہے، ان کا ملک تباہ ہو چکا ہے، اور لاکھوں لوگ بلاوجہ مارے جا چکے ہیں – اور یہ سب کچھ اب بھی جاری ہے…
ٹرمپ کے الزامات پر زیلنسکی کا سخت ردعمل
ٹرمپ کے اس دعوے کے چند گھنٹوں بعد کہ یوکرین روس کے ساتھ جاری جنگ کا ذمہ دار ہے، یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے شدید ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر پر روسی "گمراہ کن معلومات” کے جال میں پھنسنے کا الزام لگایا۔ بدھ کے روز کیف میں ٹرمپ کے یوکرین ایلچی، کیتھ کیلوج سے ملاقات کے دوران زیلنسکی نے امید ظاہر کی کہ ٹرمپ کی ٹیم یوکرین کے بارے میں "زیادہ سچائی” تک پہنچے گی، خاص طور پر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ یوکرین کو یہ جنگ "شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی”۔ یوکرینی صدر نے ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ ان کی مقبولیت صرف 4 فیصد رہ گئی ہے، اسے روسی "گمراہ کن پروپیگنڈہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ہٹانے کی کوئی بھی کوشش ناکام رہے گی۔ زیلنسکی نے یوکرینی ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، "ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ یہ اعداد و شمار امریکہ اور روس کے درمیان زیر بحث ہیں۔ یعنی، صدر ٹرمپ … بدقسمتی سے اس گمراہ کن معلومات کے دائرے میں رہ رہے ہیں۔
ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی: روس اور یوکرین پر نیا مؤقف
اپنی صدارت کے پہلے ہی مہینے میں، ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے سے قائم امریکی پالیسی میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں، خاص طور پر روس اور یوکرین کے حوالے سے۔ انہوں نے یوکرین میں جاری جنگ کے سبب روس کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی امریکی کوششوں کو ختم کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور سعودی دارالحکومت ریاض میں اعلیٰ سطحی امریکی اور روسی حکام کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کی۔
ٹرمپ کا ممکنہ ملاقات کا عندیہ، کریملن کا محتاط ردعمل
ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس ماہ کے آخر میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم، کریملن نے بیان دیا ہے کہ ایسی ملاقات کے انتظامات میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

