صباحی: "شہید سید نصراللہ امت کی آزادی اور مزاحمت کی علامت تھے”
المایادین نے اپنی خصوصی کوریج "سید الامہ” (امتِ مسلمہ کے رہنما) کے تحت عرب نیشنل کانفرنس کے سیکریٹری جنرل، حمدین صباحی کا انٹرویو کیا، جس میں انہوں نے حزب اللہ کے سابق سیکریٹری جنرل شہید سید حسن نصراللہ کی خطے پر گہرے اثرات پر روشنی ڈالی صباحی نے کہا کہ "شہید سید نصراللہ مزاحمتی محور (محورِ مقاومت) کے ایک مضبوط ستون تھے۔ ان کی عدم موجودگی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے، اور ان کے چھوڑے ہوئے خلا کو پُر کرنے میں وقت لگے گا۔”
امت کے دفاع، زمین کی آزادی اور فتوحات کے معمار
مصری سیاستدان حمدین صباحی نے اس حقیقت پر زور دیا کہ "شہید سید نصراللہ نے امت کو ایک ایسی مزاحمتی طاقت دی، جس کے ذریعے اس نے اپنے دشمن کے خلاف دفاعی برتری حاصل کی، اپنی زمین کو آزاد کروایا اور فتوحات حاصل کیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "لبنانی مزاحمت کے اس عظیم رہنما نے ہمیشہ صیہونی اور امریکی جبر و استبداد کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا
استعماری عزائم اور جبری بے دخلی کے خلاف نبردآزما
صباحی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ "سید نصراللہ استعماری اور توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والے دشمن کی فطرت کو بخوبی سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ فلسطینی عوام کو بے دخل کرنا اس جارحانہ منصوبے کا ایک بنیادی حربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ "سید نصراللہ نے 1973 کے بعد غیر روایتی جنگ (Post-Conventional Warfare) کا سب سے شاندار ماڈل پیش کیا، جس نے مزاحمت کو ایک نئی جہت دی اور دشمن کی عسکری برتری کے تصور کو ختم کر دیا۔” صباحی: "امت نے سید نصراللہ کو منتخب کیا، وہ ہمیشہ مزاحمت کی علامت رہیں گے”
مصری سیاستدان حمدین صباحی نے کہا کہ "امت نے سید حسن نصراللہ کو اپنا رہنما منتخب کیا، اور ان کی قیادت ایک ایسا عظیم عمل تھا جو وفاداری اور مزاحمت کا استعارہ بن گیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "جب تک عرب عوام زندہ ہیں، جب تک عزت و وقار کی قدر کی جاتی ہے، اور جب تک ان کے راستے پر چلا جاتا رہے گا، وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے—یہاں تک کہ فلسطین آزاد ہو جائے۔
مصر اور سید نصراللہ
مصری سیاستدان حمدین صباحی نے مصر اور سید حسن نصراللہ کے تعلق کے بارے میں کہا کہ "مصر نے ان سے گہری محبت کی،” اور نشاندہی کی کہ وہ ان چند شخصیات میں شامل تھے جن کی تصویر 2006 کے بعد مصری چوراہوں اور جامعہ الازہر میں بلند کی گئی۔
سید نصراللہ کے دل میں مصر کی خاص جگہ
صباحی کے مطابق، "مصر، شہید سید نصراللہ کے دل، دماغ اور شعور میں ایک خاص مقام رکھتا تھا، اور انہوں نے کئی مواقع پر اس محبت کا اظہار کیا۔” انہوں نے یاد دلایا کہ "امت نے سید نصراللہ کے گرد اتحاد کیا تھا، اور 2006 کی عظیم فتح کے بعد ان کی تصاویر ہر جگہ بلند کی گئیں۔”
"مصر کے دشمن وہی ہیں جن کا مقابلہ سید نصراللہ نے کیا” حمدین صباحی نے اس بات پر زور دیا کہ "مصر کے دشمن وہی ہیں جن کا سید حسن نصراللہ نے مقابلہ کیا، کیونکہ مصر کے لیے سب سے بڑا دشمن صیہونی دشمن ہے۔ غزہ کی صورتحال اور مصر کا مؤقف
غزہ پر حالیہ جنگ کے بعد کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے، صباحی نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے خلاف مصر کے سرکاری مؤقف کی تعریف کی اور کہا کہ "یہ ایک قومی مؤقف ہے، جس کے گرد سب کو متحد ہونا چاہیے۔”
سید نصراللہ اور جمال عبدالناصر: ایک مشترکہ جدوجہد
حمدین صباحی نے شہید سید حسن نصراللہ اور مرحوم مصری رہنما جمال عبدالناصر کے درمیان مماثلت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "فلسطین کے لیے غیر متزلزل عزم ان دونوں رہنماؤں کی سب سے نمایاں قدر مشترک تھی۔” انہوں نے مزید کہا:
"جس پرچم کو عبدالناصر نے بلند کیا تھا، وہی پرچم سید نصراللہ نے اٹھایا—فلسطین کی آزادی کا پرچم۔”
عروبت اور اسلام کا گہرا تعلق
صباحی نے اس حقیقت پر زور دیا کہ "عرب قوم پرستی (عروبت) اور اسلام کے درمیان تعلق ناقابل تقسیم ہے، اور یہ اصول عبدالناصر اور سید نصراللہ دونوں کی سوچ اور تجربات میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔”
محروم طبقے سے گہری وابستگی
انہوں نے مزید کہا کہ "جمال عبدالناصر کی طرح، سید نصراللہ بھی ہمیشہ غریبوں، پسماندہ اور مظلوم طبقات کے ساتھ کھڑے رہے۔”

