اسلام آباد:
وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کے روز کہا کہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ان کی حکومت کا مشن ہے، کیونکہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی اسی سے وابستہ ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ملک کی اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے عالمی بینک کے وفد اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ اپنی گفتگو کا حوالہ دیا، جنہوں نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کے نتیجے میں پاکستان کی میکرو اکنامک استحکام اور مثبت اقتصادی اشاریوں کو سراہا۔ وزیر اعظم نے طیب اردوان انٹرچینج کا افتتاح کیا اور کابینہ کو آگاہ کیا کہ سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ پاکستان کو ہر ماہ 100 ملین ڈالر کی فراہمی جاری رکھے گا۔ انہوں نے پاکستان کے بیرون ملک سفارتی مشنز کو ڈیجیٹلائز کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ حالیہ گیلپ سروے کے مطابق پچپن فیصد کاروباری برادری نے ملک میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وزارت تجارت اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے بھرپور کوششیں کریں۔ یہ ہدف ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران کیے گئے عزم کے مطابق طے کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکی دو برادر ممالک ہیں اور دونوں ملک باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا، "صدر اردوان فلسطین اور کشمیر کے لیے ایک مضبوط آواز رہے ہیں۔ پاکستان اور ترکی برادرانہ تعلقات رکھتے ہیں اور ہر فورم پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔” وزیر اعظم نے کہا کہ ترک صدر کے دورے کے دوران متعدد مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے اور وزارت تجارت سمیت دیگر متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ 5 ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارتی ہدف کے حصول کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں 84 دن میں مکمل ہونے والے فلائی اوور کو صدر طیب اردوان کے نام سے منسوب کیا گیا، جو پاکستان کے عوام کی جانب سے ان کے لیے محبت اور عقیدت کا اظہار ہے۔
وزیر اعظم نے گیلپ کے حالیہ سروے کا خیرمقدم کیا، جس کے مطابق تقریباً 55 فیصد عوام نے حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے مزید محنت درکار ہے، جس میں حکومت کے اہم اقدامات، بشمول "اُڑان پاکستان” کا منصوبہ شامل ہے۔
وزیر اعظم نے بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز کے پورے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کی ہدایت کی تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے تمام وفاقی وزارتوں اور محکموں میں ای-آفس سسٹم کے سو فیصد نفاذ کو آئندہ ماہ کی 20 تاریخ تک مکمل کرنے کا حکم دیا۔ کابینہ کو بریفنگ دی گئی کہ وفاقی حکومت کے تمام ڈویژنز میں ای-آفس کے استعمال کی شرح 98 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ 39 ڈویژنز میں ای-آفس کا 100 فیصد نفاذ مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ، وفاقی وزارتوں کے ماتحت اداروں اور حکومتی محکموں میں بھی ای-آفس کا نفاذ شروع کر دیا گیا ہے، جن میں سے 176 اداروں میں یہ کام مکمل ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم نے کابینہ کو سعودی ولی عہد کے خط سے بھی آگاہ کیا، جس میں کہا گیا کہ سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات کے لیے مزید ایک سال تک موخر ادائیگی کی بنیاد پر ہر ماہ 100 ملین ڈالر فراہم کرے گا۔ اس پر وزیر اعظم نے سعودی فرمانروا اور ولی عہد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
اس کے علاوہ، وزیر اعظم شہباز شریف نے منگل کے روز ایف-8 اور ایف-9 سیکٹرز کے قریب "رجب طیب اردوان انٹرچینج” کا افتتاح کیا اور 84 دن میں منصوبہ مکمل کرنے پر وزیر داخلہ محسن نقوی اور ان کی پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے وزیر داخلہ کو ہدایت دی ہے کہ وفاقی دارالحکومت کی مزید خوبصورتی اور شہریوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے مستقبل کے منصوبوں کی منصوبہ بندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ٹریفک کے دباؤ کو کم کرے گا اور شہریوں کے لیے آمد و رفت کو آسان بنائے گا وزیر اعظم نے ترک صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران نئے تعمیر شدہ ایف-8 اور ایف-9 انٹرچینج کو رجب طیب اردوان کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا اور اس موقع پر تختی کی نقاب کشائی کی۔ انہوں نے مزید کہا، "میں اس انٹرچینج کی افتتاحی تقریب کی تصاویر اور تفصیلات ترک صدر کو بھیجوں گا تاکہ انہیں احساس ہو کہ وہ ہمارے قریبی دوست اور بھائی ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بتایا کہ یہ منصوبہ مختص کردہ رقم سے بھی کم لاگت میں مکمل کیا گیا۔ اس منصوبے کے لیے اصل لاگت 4,000 ملین روپے مقرر کی گئی تھی، مگر یہ 3,655 ملین روپے میں مکمل ہوا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر یہ منصوبہ، جو پہلے چھ ماہ میں مکمل ہونا تھا، صرف 84 دن میں مکمل کر لیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگلے ماہ مارگلہ ہلز اور شہر بھر میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم شروع کی جائے گی تاکہ فضائی آلودگی اور اسموگ کو کم کیا جا سکے۔
منصوبے کی تفصیلات:
1.3 کلومیٹر طویل انڈر پاس 42 دن میں مکمل کیا گیا، جبکہ 1.1 کلومیٹر طویل فلائی اوور بھی تعمیر کیا گیا۔
4.3 کلومیٹر طویل سڑکیں تعمیر کی گئیں، جو ایف-10 سے منسلک ہوں گی۔
2 کلومیٹر نکاسی آب کے نالے بھی بنائے گئے تاکہ بارش کے پانی کی نکاسی کو بہتر بنایا جا سکے۔
منصوبے کی تکمیل کے بعد 70,000 گاڑیاں روزانہ اس فلائی اوور سے مستفید ہوں گی، جبکہ پہلے یہاں سے روزانہ 41,000 گاڑیاں گزرتی تھیں۔
یہ منصوبہ سیکٹر جی-8، جی-9، کشمیر ہائی وے اور سینٹورس مال جانے والے شہریوں کے لیے سہولت فراہم کرے گا۔

