ٹرمپ انتظامیہ نے وفاقی ورک فورس میں نمایاں کمی کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت مختلف ایجنسیوں میں ہزاروں پروبیشنری ملازمین کو برخاست کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ ملازمین نے ان برطرفیوں کو "سینٹ ویلنٹائن ڈے قتل عام” قرار دیا ہے، جو حالیہ تعطیلات کے دوران شروع کی گئیں۔ یہ برطرفیاں نقشہ سازوں، ماہرین آثار قدیمہ اور کینسر ریسرچرز سمیت مختلف پیشہ ور افراد پر اثرانداز ہو رہی ہیں، جو کہ "مشن-اہم” ملازمین کو برقرار رکھنے کی ہدایات کے خلاف ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ محکمہ تعلیم کو ایسے خطوط موصول ہوئے جن میں کہا گیا کہ کم از کم 160 نئے ملازمین کی ملازمت "عوامی مفاد میں نہیں” ہے یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹیک ارب پتی ایلون مسک کی سربراہی میں ایک وسیع تر مہم کا حصہ ہے، جو کہ محکمہ سرکاری کارکردگی کے سربراہ ہیں۔ اس مہم کا مقصد حکومتی کاموں کو زیادہ موثر بنانا ہے، جس میں بینک ریگولیٹرز، راکٹ سائنسدانوں اور ٹیکس نفاذ کرنے والوں سمیت کئی عہدے نشانے پر ہیں۔ اگرچہ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس تبدیلی سے 55 بلین ڈالر کی بچت ہوگی، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ برطرفیاں ضروری حکومتی کاموں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور یہ اقدام آئینی حد سے تجاوز کر سکتا ہے امریکن فیڈریشن آف گورنمنٹ ایمپلائز نے ان برطرفیوں کی سخت مذمت کی ہے، اور کہا ہے کہ وفاقی ایجنسیوں نے سالہا سال تک عوامی خدمات کے لیے باصلاحیت افراد کی بھرتی اور ترقی پر کام کیا تھا۔
یونین نے ان برطرفیوں کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ اچانک برطرفیاں قیمتی حکومتی وسائل اور صلاحیتوں کے ضیاع کا سبب بنیں گی۔ وفاقی ملازمین نے اس اچانک اور وسیع پیمانے پر برطرفی پر حیرت اور غصے کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر کیونکہ بیشتر برطرف کیے جانے والے ملازمین پروبیشنری اسٹیٹس میں تھے اور انہیں سروس پروٹیکشن حاصل نہیں تھی۔ انتظامیہ کے حکم نامے نے ملازمین میں الجھن اور بے چینی پیدا کر دی ہے، کیونکہ کئی برطرفیاں بغیر کسی واضح جواز کے کی گئی ہیں۔ قانونی چیلنجز کے باوجود، ایک وفاقی جج نے تاحال انتظامیہ کو اس مہم کو جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔
ٹرمپ حکومت کے اس فیصلے پر وسیع پیمانے پر تنقید کی جا رہی ہے، اور مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ برطرفیاں اہم حکومتی پروگراموں کو متاثر کر سکتی ہیں اور صدارتی اختیارات کا ناجائز استعمال ثابت ہو سکتی ہیں۔

