جمعرات, فروری 12, 2026
ہومبین الاقوامیچینی وزیر خارجہ وانگ یی کی صدارت میں اقوام متحدہ میں کثیرالجہتی...

چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی صدارت میں اقوام متحدہ میں کثیرالجہتی تعاون، عالمی حکمرانی اور عالمی امن و سلامتی پر مباحثہ
چ

چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی صدارت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کھلا مباحثہ

"کثیرالجہتی تعاون کا فروغ، عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور بین الاقوامی امن و سلامتی کی بہتری”

نیویارک، 18 فروری – چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت ایک کھلے مباحثے کی صدارت کی، جس کا موضوع تھا: "کثیرالجہتی تعاون کا عملی نفاذ، اصلاحات اور عالمی حکمرانی کی بہتری”۔ یہ اجلاس بین الاقوامی امن و سلامتی کے ایجنڈے کے تحت منعقد کیا گیا۔ 80 سالہ تاریخ اور اقوام متحدہ کا کردار

سال 2025 اقوام متحدہ کے قیام اور عالمی اینٹی فاشسٹ جنگ میں فتح کی 80ویں سالگرہ کی یاد دلاتا ہے۔ اس موقع پر، چین کی صدارت میں ہونے والے وزارتی سطح کے اجلاس میں رکن ممالک کو اقوام متحدہ کی تاریخ پر نظرثانی، کثیرالجہتی تعاون کے عزم کی تجدید، اور ایک منصفانہ اور مساوی عالمی حکمرانی کے نظام کی تعمیر پر تبادلہ خیال کا موقع ملا۔

وانگ یی: "کثیرالجہتی نظام کی تجدید وقت کی ضرورت ہے”

وانگ یی نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ 80 سالوں میں دنیا نے کثیرالجہتی نظام، اقتصادی عالمگیریت اور ترقی پذیر ممالک کے ابھرتے ہوئے کردار کا مشاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا:
"بین الاقوامی برادری نے دو عالمی جنگوں کے تلخ تجربات سے سبق سیکھا، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا۔ آج، عالمی بحرانوں کے پیش نظر، ہمیں حقیقی کثیرالجہتی نظام کو مضبوط کرنا ہوگا اور ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی حکمرانی کے نظام کی تعمیر کے لیے کوششیں تیز کرنی ہوں گی۔”

عالمی نظام میں اصلاحات اور مستقبل کی راہ

گلوبل ساؤتھ (ترقی پذیر ممالک) کا ابھار: دنیا اب یک قطبی یا دو قطبی نظام سے آگے بڑھ کر ایک زیادہ متعدد اور متوازن عالمی نظام کی طرف گامزن ہے۔ بین الاقوامی امن و سلامتی: اقوام متحدہ کو اپنے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا رہتے ہوئے تمام اقوام کی خودمختاری، مساوات، اور مشترکہ ترقی کو یقینی بنانا ہوگا۔

کثیرالجہتی حکمرانی: عالمی برادری کو طاقت کی سیاست اور سرد جنگ کی ذہنیت سے نکل کر اجتماعی سفارتی کوششوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

چین کی قیادت میں اقوام متحدہ کا کردار

چین، جو اس وقت سلامتی کونسل کی صدارت کر رہا ہے، نے اس اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو مشترکہ ترقی اور تنازعات کے پرامن حل کی راہ پر گامزن ہونا چاہیے۔ اجلاس میں مختلف ممالک نے کثیرالجہتی نظام کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کے لیے اپنی تجاویز بھی پیش کیں وانگ یی: چین یوکرین میں امن مذاکرات کی ہر ممکن کوشش کی حمایت کرتا ہے

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے یوکرین میں امن مذاکرات کے لیے تمام سازگار کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔

مشرق وسطیٰ اور دو ریاستی حل پر زور

مشرق وسطیٰ کے معاملے پر وانگ یی نے فلسطین کے حوالے سے دو ریاستی حل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: "غزہ اور مغربی کنارہ فلسطینی عوام کا وطن ہیں، نہ کہ کسی سیاسی سودے بازی کا حصہ۔ فلسطینیوں کا فلسطین پر حکومت کرنا ایک بنیادی اصول ہے، جس پر غزہ میں جنگ کے بعد کی حکمرانی میں عمل کیا جانا چاہیے۔”

اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پابندی لازمی ہے

وانگ یی نے یہ بھی واضح کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں قانونی طور پر پابند ہیں اور تمام ممالک کو ان پر عمل کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو ان قراردادوں پر سختی سے کاربند رہنا ہوگا تاکہ بین الاقوامی امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین