حکومت خیبرپختونخوا نے لوئر کرم میں فائرنگ کے واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کا فیصلہ کیا ہے اور 4 گاؤں—اوچت، مندوری، داد کمر اور بگن—کو خالی کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ خبر خیبر پختونخوا حکومت کے سخت اقدامات کی عکاسی کرتی ہے۔ ضلع کرم میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پشاور میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے حکومت نے 4 دیہات—اوچت، مندوری، داد کمر اور بگن—کو خالی کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہاں سرچ آپریشن کیے جا سکیں۔ مزید برآں، ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کو ‘فورتھ شیڈول’ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، کرم میں بدامنی کے ماسٹر مائنڈز اور ملوث افراد کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
یہ اقدامات علاقے میں امن و استحکام بحال کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال خیبرپختونخوا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ کرم میں حالیہ فائرنگ کے واقعے کے بعد حکومت نے امدادی رقوم کی تقسیم کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ ساتھ ہی، علاقے میں بنکرز کو تیزی سے مسمار کرنے اور کرم کو اسلحے سے پاک کرنے کی مہم کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ امن معاہدے کے تحت قائم امن کمیٹیوں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی تاکہ علاقے میں مستقل استحکام لایا جا سکے۔ تاہم، شرپسندوں کے حالیہ حملے نے اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
گزشتہ روز امدادی قافلے کو بچانے کی کوشش کے دوران 5 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے، جن میں 4 ایف سی کے جوان اور پاک فوج کا ایک سپاہی شامل ہے۔ اس تشدد کی تازہ لہر نے خطے میں قائم نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، خاص طور پر جب پچھلے مہینے ہی ایک خونریز تنازع کے بعد امن معاہدہ طے پایا تھا، جس میں تقریباً 130 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ یہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ کرم میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سخت اور مستقل مزاج پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ اپر کرم کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والا واحد زمینی راستہ، تھل-پاراچنار روڈ، مسلسل حملوں کے باعث بند کر دیا گیا ہے، جس سے علاقے میں آمد و رفت اور امدادی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ سال کے آغاز میں کرم میں متحارب گروہوں کے درمیان جنگ بندی کے بعد، حکومت نے بھاری سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ امدادی قافلوں کے ذریعے علاقے میں ضروری سامان کی ترسیل کا انتظام کیا تھا۔ تاہم، حالیہ حملوں نے نہ صرف ان قافلوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ علاقے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے جاری حکومتی کوششوں کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ کرم میں امن کی بحالی اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، اور مستقل حل کے بغیر حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

