بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیجاپان میں سینئر افغان طالبان عہدیداروں کے مذاکرات

جاپان میں سینئر افغان طالبان عہدیداروں کے مذاکرات
ج

جاپانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ سینئر افغان طالبان نمائندے جاپان میں موجود ہیں، جہاں وہ افغانستان میں ایک زیادہ جامع سیاسی نظام کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

منگل کے روز موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، یہ طالبان کا وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے باہر کسی ملک کا پہلا معلوم سفارتی دورہ ہے، جو 2021 میں افغانستان پر کنٹرول کے بعد کیا گیا ہے۔

جاپان کے چیف کابینہ سیکرٹری یوشی ماسا ہایاشی نے پیر کے روز بتایا کہ اس وفد کو نیپون فاؤنڈیشن کی دعوت پر مدعو کیا گیا ہے اور یہ جاپانی وزارت خارجہ کے حکام سے بھی ملاقات کرے گا۔

نیپون فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد طالبان کے نظریاتی دائرہ کار کو وسیع کرنا، قومی تعمیر و ترقی کے حوالے سے ان کے نظریات میں وسعت پیدا کرنا، اور کمزور طبقات کے لیے انسانی امداد کی قبولیت کو فروغ دینا ہے، تاہم فاؤنڈیشن نے وفد یا ان کے شیڈول کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ جاپان باضابطہ طور پر طالبان کو افغانستان کی جائز حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرتا۔ اگرچہ یہ دورہ ایک نجی ادارے کی جانب سے ترتیب دیا گیا ہے، لیکن ہایاشی نے نشاندہی کی کہ یہ جاپان کی اس وسیع تر سفارتی حکمت عملی کے مطابق ہے، جس کے تحت طالبان پر انسانی حقوق کے احترام پر مبنی پالیسیوں کے نفاذ کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، طالبان کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیاں ہیں۔

طالبان کے نائب وزیر برائے معیشت، عبد اللطیف نظری، نے سوشل میڈیا پر اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک اعلیٰ سطحی وفد جاپان جا رہا ہے، جس کا مقصد عالمی سفارتی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

اسی تناظر میں، رواں ماہ کے اوائل میں طالبان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مفاہمت کے لیے آمادگی ظاہر کی، لیکن امریکہ اور نیٹو فورسز کی جانب سے چھوڑے گئے عسکری ساز و سامان اور گاڑیوں کی ملکیت پر اپنا اختیار برقرار رکھا ہے۔

طالبان کے وزارت خارجہ کے ترجمان، عبد القہار بلخی، نے 7 فروری کو سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کا ایک نیا باب کھولنے کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے کہا: "ہم جنگ کے باب کو بند کر کے ایک نیا باب کھولنا چاہتے ہیں۔”

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا امریکی فوجی ساز و سامان کی واپسی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کیا جا سکتا ہے، تو طالبان کے ترجمان نے جواب دیا: "یہ افغانستان کی ریاست کے اثاثے ہیں اور یہ ریاست کی ملکیت میں ہی رہیں گے۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین