بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیسٹیو وٹکوف: ایک غیر روایتی سفارت کار یا ٹرمپ کی عالمی حکمت...

سٹیو وٹکوف: ایک غیر روایتی سفارت کار یا ٹرمپ کی عالمی حکمت عملی کا نیا چہرہ؟
س

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے آغاز کا فیصلہ کیا، تو انہوں نے روایتی سفارتی ذرائع کے بجائے ایک غیر روایتی شخصیت کا انتخاب کیا۔ اس مقصد کے لیے صدر ٹرمپ نے اپنے وزیر خارجہ کو کریملن بھیجنے کے بجائے سٹیو وٹکوف کو اس اہم مشن پر مامور کیا— ایک ایسی شخصیت جو نہ صرف ان کے قریبی دوست ہیں بلکہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

وٹکوف کسی سفارتی پس منظر کے حامل نہیں ہیں، تاہم انہیں وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی سابقہ مدتِ صدارت کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کیا گیا تھا۔ اب، انہیں مشرقی یورپ میں جاری تنازع کے حل کے لیے ہونے والے مذاکرات میں ایک کلیدی حیثیت دی گئی ہے۔

ماسکو میں سفارتی کوششیں اور قیدیوں کا تبادلہ

سٹیو وٹکوف نے حال ہی میں ماسکو میں امریکہ اور روس کے درمیان ایک معاہدے پر کام کیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ممکن ہوا۔ اس سفارتی اقدام سے یہ امید پیدا ہوئی کہ شاید دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ سکے۔

اسی دوران، وٹکوف نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے مذاکرات میں بھی کردار ادا کیا، جو بعد میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ اس کامیابی کا کریڈٹ سابق صدر ٹرمپ اور موجودہ صدر جو بائیڈن، دونوں نے لیا۔

سعودی عرب میں جاری مذاکرات اور مغربی اتحادیوں کے خدشات

اب وٹکوف مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر متحرک ہو چکے ہیں اور سعودی عرب میں روس-یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں شریک ہیں۔ ان مذاکرات میں امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو اور قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز بھی شامل ہیں۔

تاہم، ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام پر امریکہ کے مغربی اتحادیوں کو تحفظات ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں ہونے والے ان مذاکرات میں یوکرین اور دیگر کلیدی یورپی ممالک کو شامل نہیں کیا گیا، جو اس عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں۔

سٹیو وٹکوف کون ہیں؟

یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ سٹیو وٹکوف کون ہیں، اور انہیں ایسے عالمی سطح کے مذاکرات میں کیوں شامل کیا گیا، جو بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری پر دیرپا اثرات مرتب کر سکتے ہیں؟

وٹکوف ایک ارب پتی رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ہیں، جو نیویارک اور فلوریڈا میں وسیع کاروباری اثاثے رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب کاروباری شخصیت ہیں بلکہ کئی دہائیوں سے ریپبلکن پارٹی کے مالی معاون بھی رہے ہیں۔

جب گزشتہ امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار کامیابی حاصل کی، تو وٹکوف ان افراد میں شامل تھے جنہیں ٹرمپ نے اپنی نئی حکومت کی ٹیم میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا:
"سٹیو (وٹکوف) امن کے لیے ایک غیر متزلزل آواز ثابت ہوں گے اور ہم سب ان پر فخر محسوس کریں گے۔”

وٹکوف کی مذاکراتی حکمت عملی اور اثر و رسوخ

وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق، صدر ٹرمپ وٹکوف کو ایک "بہترین عالمی مذاکرات کار” کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وٹکوف نرم گفتاری کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر وہ فریقین پر سفارتی دباؤ ڈالنے کی مہارت بھی رکھتے ہیں۔

وٹکوف اور ٹرمپ کی قربت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے مطابق، وٹکوف اور ٹرمپ نہ صرف کاروباری شراکت دار ہیں بلکہ کئی سالوں سے گالف کے ساتھی بھی رہے ہیں۔ گزشتہ سال ایک گالف میچ کے دوران صدر ٹرمپ پر ایک ناکام حملے کے وقت وٹکوف ان کے ساتھ موجود تھے۔

ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ میں نئی حکمت عملی

حالیہ اطلاعات کے مطابق، وٹکوف کو ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات شروع کرنے کا بھی ٹاسک سونپا گیا ہے۔ "فنانشل ٹائمز” کی رپورٹ کے مطابق، نئی امریکی انتظامیہ نے انہیں تہران کے ساتھ جوہری مذاکرات کے آغاز کی ذمہ داری دی ہے، جس کا مقصد خطے میں جنگی تنازعات کو روکنا ہے۔

وٹکوف کی سیاسی اور تعلیمی وابستگی

وٹکوف نہ صرف ایک کاروباری شخصیت ہیں بلکہ تعلیمی میدان میں بھی سرگرم ہیں۔ وہ اس وقت یونیورسٹی آف میامی کے رئیل اسٹیٹ اسکول کے ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اپنی پہلی مدتِ صدارت میں، صدر ٹرمپ نے انہیں "جان ایف کینیڈی سینٹر فار دی پرفارمنگ آرٹس” کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں شامل کیا تھا، جس سے ان کے ثقافتی اور سماجی اثر و رسوخ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سٹیو وٹکوف کا حالیہ سفارتی کردار غیر روایتی ہونے کے باوجود بین الاقوامی تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ وہ کسی روایتی سفارتی پس منظر کے حامل نہیں ہیں، تاہم صدر ٹرمپ کی نظر میں وہ ایک ایسے مذاکرات کار ہیں، جو تنازعات کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

وٹکوف کی مشرقِ وسطیٰ اور مشرقی یورپ میں جاری امن مذاکرات میں شرکت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سفارتی معاملات میں غیر روایتی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ تاہم، اس حکمت عملی کے طویل مدتی نتائج کیا ہوں گے، یہ وقت ہی بتائے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین