جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستان400 سے زائد انسانی اسمگلرز گرفتار، قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا

400 سے زائد انسانی اسمگلرز گرفتار، قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا
4

400 سے زائد انسانی اسمگلرز گرفتار، قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے اطلاعات، نشریات، قومی ورثہ اور ثقافت عطاء اللہ تارڑ نے پیر کے روز قومی اسمبلی کو بتایا کہ اب تک 416 انسانی اسمگلرز کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں 17 اشتہاری ملزمان بھی شامل ہیں، جو 2023 کے یونان کشتی حادثے میں ملوث تھے، جبکہ ریڈ بک میں شامل 6 انتہائی مطلوب انسانی اسمگلرز بھی پکڑے گئے ہیں۔ سوال و جواب کے سیشن کے دوران وزیر نے وضاحت کی کہ کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 661.63 ملین روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کی گئیں، 10.455 ملین روپے کی ریکوری ہوئی، جبکہ 73.51 ملین روپے کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث 34 ایف آئی اے اہلکاروں کو برطرف کر دیا گیا، اور ان کی اپیلیں مسترد کر دی گئیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات چند دنوں میں مکمل کر لی جاتی ہیں تاکہ ان سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

انسانی اسمگلنگ پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات

وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ انسانی اسمگلنگ پر قابو پانے کے لیے "ہیومن ٹریفکنگ سیل” کو فعال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد گینگز اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہیں، اور متعلقہ ادارے ان کا سراغ لگا رہے ہیں۔ مزید برآں، اسمگلرز کو عدالتوں سے ضمانت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے مارکیٹ سے خصوصی وکلاء (پراسیکیوٹرز) کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

انسانی اسمگلرز کے لیے عمر قید کی سزا مقرر، گرفتاری کے بعد ضمانت نہیں ہوگی

وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ نئی قانون سازی کے تحت انسانی اسمگلنگ کو ایک ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے، جس کے تحت ملوث مجرموں کو عمر قید کی سزا دی جائے گی۔

گوجرانوالہ ڈویژن میں انسانی اسمگلنگ کی شرح سب سے زیادہ

انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک میں انسانی اسمگلنگ کے سب سے زیادہ واقعات گوجرانوالہ ڈویژن میں رپورٹ ہو رہے ہیں، جہاں اس غیر قانونی سرگرمی کے نتیجے میں کئی حادثات بھی پیش آئے ہیں۔

وزیرِاعظم کی قیادت میں سخت اقدامات

وزیر نے مزید بتایا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے متعدد اجلاس منعقد کر چکے ہیں، اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مزید سخت قوانین پر کام جاری ہے۔حکومت کے واضح مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے، انہوں نے یقین دلایا کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے اس مسئلے پر حکومت، اپوزیشن اور عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

بین الاقوامی سطح پر اسمگلرز کے خلاف کارروائی

مزید برآں، انہوں نے بتایا کہ انسانی اسمگلنگ میں مطلوب مجرموں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کارروائی کے لیے 35 "میوچل لیگل اسسٹنس” (Mutual Legal Assistance) کی درخواستیں دائر کی گئی ہیں، تاکہ غیر ملکی عدالتوں سے اہم شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ اسی طرح، 26 ریڈ نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، جن کے تحت انٹرپول (NCB INTERPOL) کے ذریعے ایف آئی اے ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں مطلوب انسانی اسمگلرز کو پاکستان واپس لا کر قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انسانی اسمگلنگ کے قوانین مزید سخت کرنے کی تیاری

وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ ایف آئی اے نے "پریوینشن آف ٹریفکنگ ان پرسنز ایکٹ 2018″، "پریوینشن آف اسمگلنگ آف مائیگرنٹس ایکٹ 2018 ” اور "امیگریشن آرڈیننس 1979” میں ترامیم تجویز کی ہیں تاکہ انسانی اسمگلنگ سے متعلق جرائم پر سزاؤں میں اضافہ کیا جا سکے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی حکومت پر سخت تنقید

دوسری جانب، جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملک میں معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے ادا نہیں کر رہے۔ ادارے بند کیے جا رہے ہیں اور لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔” مولانا فضل الرحمٰن نے قومی سلامتی پالیسی پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ پالیسی بند کمروں میں بنائی جا رہی ہے، جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حکومت کی کوئی رِٹ نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ایک سال گزرنے کے باوجود حکومت ملک میں حالات معمول پر لانے میں ناکام رہی ہے۔ اگر موجودہ صورتحال کو نظر انداز کیا گیا تو مزید بدامنی پھیل سکتی ہے۔” انہوں نے عام شہریوں کے مسائل پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "عام آدمی کے پاس نہ نوکری ہے، نہ جان و مال کا تحفظ۔ پاکستان کے سیاسی معاملات سیاستدانوں کے سپرد کیے جانے چاہئیں۔”

آئی ایم ایف وفد کے چیف جسٹس سے ملاقات پر سوالات

مولانا فضل الرحمٰن نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد کی چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ملاقات پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے اس ملاقات کی منطق پر اعتراض کیا اور کہا کہ "یہ واضح کیا جائے کہ عدلیہ اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والی ان ملاقاتوں کا مقصد کیا ہے؟”

400 سے زائد انسانی اسمگلرز گرفتار

اس سے قبل، قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا کہ 400 سے زائد انسانی اسمگلرز کو گرفتار کر کے ان کی جائیدادیں ضبط کر لی گئی ہیں اور ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔

وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے سوال و جواب کے دوران بتایا کہ حکومت انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھے گی، اور اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے مزید قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حکومت کے اقدامات: انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں

وفاقی وزیر نے موجودہ حکومت کے اقدامات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت نوٹس لیا ہے اور اس جرم کی سزا میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ وزیر نے کہا، "انسانی اسمگلنگ کو ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی بھی کی جا چکی ہے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ "اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل کو فعال کر دیا گیا ہے اور عوام میں آگاہی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔”

اسمگلنگ اور امیگریشن قوانین میں ترامیم کی منظوری

قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے سخت احتجاج کے باوجود درج ذیل قوانین کی منظوری دے دی:

  1. پریوینشن آف ٹریفکنگ ان پرسنز ترمیمی بل 2025
  2. پریوینشن آف اسمگلنگ آف مائیگرنٹس ترمیمی بل 2025
  3. امیگریشن ترمیمی بل 2025

اس کے علاوہ دو دیگر بل بھی منظور کیے گئے:

  1. سول کورٹس ترمیمی بل 2024
  2. پاکستان کوسٹ گارڈز ترمیمی بل 2024

سزاؤں میں اضافہ، ملک کو انسانی اسمگلنگ سے پاک کرنے کا عزم

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ "انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے سزاؤں اور جرمانوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔”

قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی کم تعداد موجود رہی، جبکہ پی ٹی آئی کے ارکان نے حسب روایت قانون سازی کے دوران شدید ہنگامہ آرائی کی

مقبول مضامین

مقبول مضامین