بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ اسرائیلی جنگ کے بعد اسپتالوں میں آکسیجن کی شدید قلت

غزہ اسرائیلی جنگ کے بعد اسپتالوں میں آکسیجن کی شدید قلت
غ

اناضول ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غزہ کی وزارت صحت نے اتوار کے روز خبردار کیا کہ اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جنگ کے نتیجے میں دس پاور پلانٹس کی تباہی کے بعد، محصور علاقے کے اسپتالوں میں آکسیجن کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ "بہت سے اسپتال اپنی آکسیجن کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔” وزارت صحت نے متنبہ کیا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں آکسیجن جنریٹرز کی رسائی پر پابندی بحران کو مزید سنگین کر دے گی اور مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دے گی۔

اسرائیلی فوج نے اپنی تباہ کن جارحیت کے دوران منظم طریقے سے اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا۔ غزہ کی حکومتی میڈیا آفس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج نے غزہ کے 38 میں سے 34 اسپتالوں کو تباہ کر دیا ہے، جبکہ باقی چار اسپتال ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت کے باعث محدود صلاحیت کے ساتھ خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ 80 طبی مراکز اپنی خدمات بند کر چکے ہیں، جبکہ اسرائیلی حملوں میں 162 دیگر مراکز اور 136 ایمبولینسیں بھی تباہ ہو چکی ہیں۔

19 جنوری سے غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جنگ رکی، جس نے 48,200 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی، اور پورے علاقے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا۔

نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوآو گالانٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ اسرائیل کو غزہ میں اپنی جنگ کے باعث بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین