بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیشام کے قومی مکالمے میں کردوں اور سابق حکومتی شخصیات کی شمولیت...

شام کے قومی مکالمے میں کردوں اور سابق حکومتی شخصیات کی شمولیت خارج
ش

ایک کانفرنس منعقد کی جائے گی تاکہ صدر کو مستقبل کے شامی آئین کے لیے غیر پابند تجاویز فراہم کی جا سکیں۔

شام کی آئندہ قومی مکالمہ کانفرنس میں شامی معاشرے کے تمام طبقات شامل ہوں گے، سوائے شمال مشرق میں کردوں کی قیادت میں قائم خود مختار انتظامیہ کے نمائندوں اور سابق صدر بشار الاسد کی حکومت سے وابستہ شخصیات کے۔ منتظمین نے 13 فروری کو اس بات کا اعلان کیا۔

"یہ گزشتہ 75 سالوں میں شامی عوام کا پہلا حقیقی اجتماع ہوگا،” کانفرنس کی انتظامی کمیٹی کی رکن ہدیٰ العطاسی نے دمشق میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کانفرنس میں "سماجی، سیاسی، اقتصادی اور حکمرانی کے مسائل زیر بحث آئیں گے، تاکہ قومی اتفاقِ رائے، انصاف، اصلاحات اور شمولیت کی بنیاد پر ایک مستحکم مستقبل کی راہ ہموار کی جا سکے۔”

تاہم، کانفرنس میں پیش کی جانے والی تجاویز پر عمل درآمد لازم نہیں ہوگا بلکہ انہیں صرف صدارتی دفتر کو سفارشات کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

دسمبر میں، سابق القاعدہ رہنما احمد الشراء، جو ابومحمد الجولانی کے نام سے جانے جاتے ہیں، کی قیادت میں حیات تحریر الشام (HTS) کے جنگجوؤں نے اسد حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ شرا ء، جنہوں نے رواں ماہ خود کو صدر قرار دیا، کا کہنا ہے کہ نئے آئین کی منظوری اور انتخابات کے انعقاد میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

قومی مکالمہ کانفرنس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم شام کی قومی فوج کے سیاسی رہنما حسن الدغیم کے مطابق، اس کانفرنس کے شرکاء کو ان کی مہارت، عوامی اثر و رسوخ اور جامعیت کی بنیاد پر منتخب کیا جائے گا۔

الدغیم نے وضاحت کی کہ "کسی کو بھی مذہب، ادارہ جاتی تعلق یا جماعتی وابستگی کی بنیاد پر مدعو نہیں کیا جائے گا۔” مزید برآں، اسد حکومت سے وابستہ افراد کو بھی اس کانفرنس میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

HTS کی چھتری تلے لڑنے والے زیادہ تر سنی مسلح گروہوں نے ہتھیار ڈالنے اور صدر شرا ء کی سیکیورٹی فورسز میں شامل ہونے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم شمال مشرقی شام میں کردوں کی قیادت میں قائم شامی جمہوری فورسز (SDF) اور ملک کے جنوبی علاقے سویدا میں موجود دروز ملیشیاؤں نے اس سے انکار کر دیا ہے۔

کردوں کی زیر قیادت SDF نے 2015 سے امریکی افواج کے ساتھ مل کر شمال مشرقی شام پر قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ فورسز صرف کرد اکثریتی علاقوں پر ہی نہیں بلکہ دیر الزور گورنری کے عرب اکثریتی علاقوں پر بھی قابض ہیں، جہاں شام کے زیادہ تر تیل کے ذخائر موجود ہیں۔

شام کی علوی برادری کو بڑی حد تک غیر مسلح کر دیا گیا ہے، کیونکہ شرا ء نے پرانی فوج اور سیکیورٹی فورسز کو تحلیل کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں علوی برادریاں غیر محفوظ ہو گئی ہیں، جس سے سنی مسلح گروہوں کو حماہ اور حمص کے دیہی علاقوں میں ان کے خلاف قتلِ عام کی کارروائیاں کرنے کا موقع ملا ہے۔

اسد حکومت کے خاتمے کے بعد، SDF فورسز شمالی شام میں ترکی کی حمایت یافتہ شامی قومی فوج (SNA) کے خلاف برسرپیکار ہیں تاکہ کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں کو برقرار رکھا جا سکے۔ SDF کی کرد قیادت کو اس بات کا خدشہ ہے کہ امریکی افواج کی مدد سے حاصل کردہ خود مختاری اور تیل کی دولت سے وہ محروم ہو سکتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین