جیو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، پہلا وفد مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور سفارتی امور کو سنبھالنے کی ذمہ داری نبھائے گا۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے مشیر، بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت مذاکرات کے لیے افغانستان میں دو وفود بھیجے گی۔
جیو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، پہلا وفد مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور سفارتی امور کو سنبھالنے کی ذمہ داری نبھائے گا، جبکہ دوسرا وفد مختلف اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ہوگا اور اس میں اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کا الزام اسلام آباد نے افغانستان میں موجود گروہوں پر عائد کیا ہے۔
پاکستان کے لیے دہشت گردی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے، اور اس نے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے گروہوں کے استعمال سے روکے۔
تاہم، اسلامی امارت نے ان الزامات کو بارہا مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی بھی فرد یا گروہ کو کسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گی۔
خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال، خاص طور پر کرم کے علاقے میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے پیش نظر، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ستمبر 2024 میں افغانستان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی تاکہ سرحدی علاقوں میں پائیدار امن کے لیے دہشت گردی سے متعلق خدشات کو دور کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے رواں ماہ اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ایک جرگہ ہمسایہ ملک بھیجے گی۔

