متعدد ذرائع کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سینئر روسی عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کرنے والے ہیں تاکہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔
قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور مشرق وسطیٰ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کے سعودی عرب میں روسی حکام سے ملاقات کے لیے سفر کرنے کی توقع ہے، دو ذرائع نے سی این این کو بتایا۔ ایک ذریعے کے مطابق، یہ ملاقات آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔
ذرائع نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ اس اجلاس میں کون سے روسی حکام شرکت کریں گے، تاہم، سی این این نے پہلے اطلاع دی تھی کہ کریملن ایک اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم تشکیل دے رہا ہے جو امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شامل ہوگی۔ اس ٹیم میں اعلیٰ سیاسی، انٹیلی جنس اور اقتصادی شخصیات شامل ہوں گی، جن میں کیریل دمترییف بھی شامل ہیں، جو حالیہ امریکی قیدیوں کی رہائی کے معاہدے میں پس پردہ اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ تقریباً تین سال سے جاری یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات "فوری طور پر” شروع ہوں گے۔ یہ اعلان روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ "طویل اور انتہائی نتیجہ خیز” فون کال کے بعد سامنے آیا، جو دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹرمپ کے گزشتہ ماہ عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلا معلوم براہِ راست رابطہ تھا۔ ٹرمپ اپنے مشیروں پر واضح کر چکے ہیں کہ وہ یوکرین تنازع کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتے ہیں۔
مذاکرات میں سعودی عرب کا کردار
ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی کے چیئرمین مائیک مک کال نے بھی ہفتے کے روز میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے دوران پولیٹیکو سے بات کرتے ہوئے ان مذاکرات کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا: "روبیو، والٹز اور وٹکوف کو یوکرینی اور روسی حکام سے یوکرین کے حوالے سے بات چیت کے لیے سعودی عرب بھیجا جا رہا ہے۔”
ٹرمپ نے اس ہفتے یہ عندیہ بھی دیا کہ وہ مستقبل قریب میں سعودی عرب میں پیوٹن سے ملاقات کر سکتے ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ "ہم سمجھتے ہیں کہ پہلی ملاقات سعودی عرب میں ہوگی،” ٹرمپ نے بدھ کو پیوٹن سے فون پر گفتگو کے بعد کہا۔
صدر نے اشارہ دیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ان مذاکرات میں کردار ادا کریں گے۔ وٹکوف نے بھی تصدیق کی کہ سعودی ولی عہد امریکی قیدی مارک فوگل کی حالیہ رہائی میں "اہم کردار” ادا کر چکے ہیں۔
محکمہ خارجہ نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ روبیو آئندہ دنوں میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے، جو میونخ اور مشرق وسطیٰ کے وسیع تر سفارتی سفر کا حصہ ہے۔ روبیو ہفتے کے روز اسرائیل پہنچے اور اسی دن انہوں نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے بھی گفتگو کی، جس کی تصدیق امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کی۔
روس کو رعایتیں دینی ہوں گی: امریکی نمائندہ
روبیو کی کال ایسے وقت میں آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کے روس-یوکرین نمائندہ کیتھ کیلوج نے ہفتے کو کہا کہ ماسکو کو جنگ کے خاتمے کے لیے کچھ رعایتیں دینی ہوں گی۔
کیلوج نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں ایک پینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ رعایتیں بنیادی طور پر علاقائی معاملات سے متعلق ہوں گی اور ممکنہ طور پر طاقت کے استعمال سے دستبرداری بھی شامل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیوٹن "اپنی فوجی قوت کو کم نہیں کریں گے”، لیکن امریکہ امید رکھتا ہے کہ انہیں ایسے اقدامات پر مجبور کیا جا سکتا ہے جن میں وہ خود کو غیر آرام دہ محسوس کریں۔
کیلوج نے مزید کہا کہ امریکہ، روس کے حالیہ بننے والے اتحادیوں—ایران، شمالی کوریا اور چین—کے ساتھ تعلقات میں خلل ڈال کر پیوٹن پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ روس کی تیل کی آمدنی پر سخت پابندیوں کے ذریعے دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
"روس کو کیا چیز چلا رہی ہے؟ بنیادی طور پر یہ ایک پیٹرو اسٹیٹ (تیل پر منحصر ریاست) ہے۔ اس جنگ کے لیے جو سرمایہ انہیں حاصل ہو رہا ہے، اس کا 70 فیصد تیل اور گیس سے آ رہا ہے،” کیلوج نے وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ایسی پابندیاں لگانی ہوں گی جو ماسکو کی "معاشی ریڑھ توڑ دیں”۔
یورپ مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا
ٹرمپ سے جب یہ پوچھا گیا کہ روس کو جنگ کے خاتمے کے لیے کن رعایتوں پر راضی ہونا چاہیے، تو انہوں نے گریز کیا اور کہا: "یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ کیا ہوگا۔ شاید روس بہت کچھ دے دے۔ شاید وہ کچھ نہ دے۔ یہ سب کچھ مستقبل میں ہونے والے واقعات پر منحصر ہے۔”
کیلوج نے ہفتے کو یہ بھی واضح کیا کہ یوکرین جنگ کے حل کے لیے ہونے والے مذاکرات میں یورپی ممالک شامل نہیں ہوں گے۔
"جواب ہے: نہیں،” کیلوج نے میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر ایک تقریب میں کہا۔
البتہ، یوکرین ان مذاکرات میں موجود ہوگا۔ "یہ کہنا حماقت ہوگی کہ یوکرین شامل نہیں ہوگا،” کیلوج نے کہا۔
یورپی ممالک کو مذاکرات سے باہر رکھنے کے فیصلے پر وضاحت دیتے ہوئے کیلوج نے کہا کہ وہ "حقیقت پسندی کے مکتبِ فکر” سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے 2015 میں طے پانے والے منسک II معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اس وقت مذاکراتی میز پر بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جن کے پاس امن عمل کو عملی جامہ پہنانے کی حقیقی صلاحیت نہیں تھی، اور وہ معاہدہ بری طرح ناکام ہوگیا۔”
منسک II معاہدہ 2015 میں بیلاروس کے دارالحکومت میں ہوا تھا، جس کا مقصد مشرقی یوکرین میں 10 ماہ سے جاری خونی تنازع کا خاتمہ تھا۔ یہ ایک نادر سفارتی کوشش تھی، جس میں روس، یوکرین، جرمنی اور فرانس کے رہنما شامل ہوئے تھے، تاکہ 2014 میں روس نواز علیحدگی پسندوں کے قبضے میں آنے والے علاقوں میں امن بحال کیا جا سکے۔ تاہم، اس معاہدے کے نفاذ میں شدید مشکلات پیش آئیں اور یہ خطے میں پائیدار استحکام لانے میں ناکام رہا۔
دوہری حکمتِ عملی
کیلوج نے موجودہ امن مذاکراتی کوششوں کو "دوہری حکمتِ عملی” قرار دیا۔
"ہمارے پاس ایک روسی مذاکراتی عمل جاری ہے، اور اسی وقت یوکرینی مذاکراتی عمل بھی چل رہا ہے،” انہوں نے وضاحت کی۔ "اگر آپ خبروں کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے ٹرمپ کے نمائندہ اسٹیو وٹکوف روسی مذاکراتی لائن پر کام کر رہے ہیں، جبکہ میں امریکی-یوکرینی اور اتحادی مذاکراتی لائن پر کام کر رہا ہوں۔ ہم یہ سب کچھ تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے کر رہے ہیں۔”

