بدھ, فروری 11, 2026
ہومٹیکنالوجیٹک ٹاک کی امریکی ایپ اسٹورز میں دوبارہ بحالی، پابندی کے خدشات...

ٹک ٹاک کی امریکی ایپ اسٹورز میں دوبارہ بحالی، پابندی کے خدشات برقرار
ٹ

ٹک ٹاک ایک بار پھر امریکہ میں ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہو گیا ہے، جس سے ان تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے کہ یہ ایپ ملک سے مستقل طور پر ہٹا دی گئی ہے۔ یہ چینی ایپ اب ایپل ایپ اسٹور اور گوگل پلے اسٹور پر دوبارہ بحال کر دی گئی ہے، جہاں سے گزشتہ ماہ قومی سلامتی کے خدشات کے باعث اسے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس مقبول مختصر ویڈیو ایپ کی بحالی کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی اٹارنی جنرل، پام بانڈی، نے ایپل اور گوگل کو یقین دہانی کرائی کہ وہ امریکی صارفین کے لیے اس ایپ کو دستیاب کرنے پر کسی قانونی کاروائی کا سامنا نہیں کریں گے۔

گزشتہ ماہ، "غیر ملکی حریفوں کے زیر کنٹرول ایپلی کیشنز سے امریکیوں کے تحفظ کا قانون” (Protecting Americans from Foreign Adversary Controlled Applications Act) کے نفاذ کے بعد، ٹک ٹاک کو امریکی ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا تھا۔ یہ قانون اپریل 2024 میں نافذ کیا گیا تھا اور اس کے تحت ٹک ٹاک کی بنیادی کمپنی، بائٹ ڈانس (ByteDance)، کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ 19 جنوری 2025 تک امریکہ میں اپنی سرگرمیوں سے دستبردار ہو جائے، بصورتِ دیگر اسے ملک گیر پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ قانون اس تشویش کے باعث منظور کیا گیا تھا کہ چین کی ملکیت میں موجود بائٹ ڈانس کو ممکنہ طور پر اپنے صارفین کا ڈیٹا چینی حکومت کے ساتھ شیئر کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس ڈیڈلائن کے باوجود، بائٹ ڈانس نے اپنی امریکی سرگرمیوں کو الگ کرنے کے قانون کی پاسداری نہیں کی، جس کے نتیجے میں ٹک ٹاک کو امریکی ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا۔ اگرچہ وہ صارفین جنہوں نے پہلے ہی ٹک ٹاک انسٹال کر رکھا تھا، اسے بدستور استعمال کر سکتے تھے، لیکن نئے صارفین کے لیے ڈاؤن لوڈ کی سہولت بند کر دی گئی، اور موجودہ صارفین کے لیے بھی ایپ کی اپڈیٹس دستیاب نہیں تھیں، جس کے باعث انہیں سیکیورٹی اپڈیٹس اور نئی خصوصیات سے محروم رہنا پڑا۔

یہ صورتحال 20 جنوری کو اس وقت تبدیل ہوئی جب ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکی صدر بنے اور انہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس کے تحت ٹک ٹاک پر پابندی کے نفاذ کو 75 دنوں کے لیے موخر کر دیا گیا۔ ٹرمپ نے اس وقت "ٹروتھ سوشل” (Truth Social) پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا تھا کہ:
"میں پیر کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کروں گا، جس کے ذریعے اس قانون کے نفاذ کی مدت میں توسیع کی جائے گی تاکہ ہم قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک معاہدہ طے کر سکیں۔”

یہ حکم نامہ ٹک ٹاک کے لیے عارضی ریلیف کا باعث بنا، جس سے اسے امریکہ میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع مل گیا، جب کہ ایپ کے مستقبل سے متعلق مذاکرات بھی جاری رہے۔ تاہم، اس مہلت کے باوجود، ایپل اور گوگل نے فوری طور پر ٹک ٹاک کو اپنے متعلقہ ایپ اسٹورز پر بحال نہیں کیا۔ اس موقع پر پام بانڈی نے مداخلت کی اور ایک باضابطہ خط جاری کیا، جس میں واضح کیا کہ جب تک یہ پابندی معطل ہے، ایپل اور گوگل کو ٹک ٹاک کی بحالی پر کوئی قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد، دونوں ٹیکنالوجی کمپنیوں نے ایپ کو دوبارہ اپنے پلیٹ فارمز پر شامل کر لیا، جس کے بعد امریکی صارفین کے لیے دوبارہ ڈاؤن لوڈ اور اپڈیٹس دستیاب ہو گئیں۔

ٹک ٹاک کی امریکی ایپ اسٹورز میں واپسی ملک میں موجود 170 ملین سے زائد صارفین اور مواد تخلیق کاروں کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے۔ تاہم، جن خدشات کی بنیاد پر ایپ پر پابندی عائد کی گئی تھی، وہ تاحال پوری طرح حل نہیں ہوئے ہیں۔ قانون سازوں اور سیکیورٹی حکام کا مؤقف ہے کہ جب تک بائٹ ڈانس ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کسی امریکی کمپنی کو فروخت نہیں کرتا، یہ پلیٹ فارم قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنا رہے گا۔ دوسری جانب، بائٹ ڈانس مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ اس کی سرگرمیاں چینی حکومت سے آزاد اور خودمختار ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین