چین نے یوکرین بحران کے حل کے لیے امن اور مذاکرات کے عزم کا اعادہ کیا
میونخ – چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے ہفتے کے روز میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر یوکرینی ہم منصب آندریئی سیبیہا سے ملاقات کے دوران چین کے امن اور مذاکرات کے عزم کو دہرایا۔ وانگ، جو چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن بھی ہیں، نے دونوں ممالک کے درمیان 2011 میں قائم ہونے والی دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین، عالمی چیلنجز کے باوجود، آج بھی یوکرین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی وسیع صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ وانگ نے یوکرین کو دوست اور شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین، یوکرین کے ساتھ مل کر چیلنجز پر قابو پانے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یوکرین اپنے ملک میں چینی اداروں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔
یوکرین بحران پر چین کا مؤقف
وانگ ای نے یوکرین بحران پر چین کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ چین امن اور مذاکرات کو فروغ دینے پر کاربند ہے۔ انہوں نے صدر شی جن پنگ کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اصول غیر جانبدار، حقیقت پسندانہ، اور عملی ثابت ہوئے ہیں اور بحران کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ چین یوکرین بحران کے سیاسی حل اور پائیدار امن کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
وانگ نے کہا کہ چین ایک منصفانہ، دیرپا، اور تمام فریقین کے لیے قابلِ قبول امن معاہدے کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اور عالمی جنوبی ممالک کے زیر قیادت "فرینڈز آف پیس” پلیٹ فارم عالمی سطح پر امن اور مذاکرات کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
یوکرین کی جانب سے چین کے کردار کی حمایت
یوکرینی وزیر خارجہ آندریئی سیبیہا نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات اور عوامی دوستی کو سراہا۔ انہوں نے یوکرین کی جانب سے "ون چائنا پالیسی” پر کاربند رہنے کا اعادہ کیا اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
سیبیہا نے چین کے عالمی اثر و رسوخ کا اعتراف کرتے ہوئے چین کے متوازن اور غیر جانبدارانہ مؤقف کی تعریف کی۔ انہوں نے چین پر زور دیا کہ وہ خطے میں جامع، منصفانہ، اور پائیدار امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرے۔

