جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستانبلوچستان: دہشت گردوں نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی بس سے اتار...

بلوچستان: دہشت گردوں نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی بس سے اتار کر 7 مسافر قتل کردیے
ب

بلوچستان کے ضلع بارکھان میں قومی شاہراہ پر مسلح دہشت گردوں نے ایک مسافر کوچ کو روکا اور پنجاب جانے والے 7 مسافروں کو نیچے اتار کر ان کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد قتل کر دیا۔ تقریباً 40 مسلح افراد کے ایک گروہ نے بارکھان-ڈیرہ غازی خان شاہراہ پر راکھنی کے قریب کئی بسوں اور دیگر گاڑیوں کو روکا۔ بارکھان کے ڈپٹی کمشنر وقار خورشید عالم کے مطابق، مسلح افراد نے شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد 7 مسافروں کو کوچ سے اتارا اور گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ مرنے والے تمام افراد کا تعلق پنجاب سے تھا اور وہ لاہور جا رہے تھے۔ جاں بحق ہونے والے افراد میں عاشق حسین، عاصم علی، عدنان مصطفیٰ، محمد عاشق، محمد اجمل، صفیان اور شوکت علی شامل ہیں، جن کا تعلق لاہور، بورے والا، شیخوپورہ اور فیصل آباد سے تھا۔ حکام کے مطابق، مسلح افراد نے مسافروں کو کوچ سے اتار کر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جب کہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ بعد ازاں، جاں بحق افراد کی لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

بارکھان کے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ایف سی اور لیویز اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔

صدر اور وزیراعظم کی تعزیت

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں کی جانیں لینے والوں کو سخت قیمت چکانی ہوگی۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہدایت کی کہ مجرموں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے، کیونکہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اپریل 2024 میں، دو مختلف واقعات میں نوشکی کے قریب بس سے زبردستی اتار کر 9 افراد کو قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ کیچ میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 2 مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال مئی میں، گوادر کے قریب پنجاب سے تعلق رکھنے والے 7 حجاموں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا، جبکہ اگست میں 23 مسافروں کو ٹرکوں اور بسوں سے اتار کر ضلع موسیٰ خیل میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔

تاحال کسی گروپ نے اس تازہ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے واقعے کے بعد، لورالائی، کنگری اور ملحقہ علاقوں میں مختلف مقامات پر مسافر بسوں اور گاڑیوں کو انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر روک دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس المناک واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع بارکھان میں بے گناہ مسافروں کا دہشت گردوں کے ہاتھوں بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس واقعے میں ملوث عناصر کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 26 اگست 2024 کو بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم میں مسلح افراد نے ٹرکوں اور مسافر بسوں کو روک کر شناخت کے بعد 23 افراد کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

اسسٹنٹ کمشنر نجیب کاکڑ کے مطابق، مسلح افراد نے بین الصوبائی شاہراہ پر ناکہ لگا کر مسافروں کو بسوں سے اتارا اور شناخت کے بعد انہیں بے دردی سے قتل کر دیا۔

نجیب کاکڑ نے مزید بتایا کہ حملہ آوروں نے 10 گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا تھا۔ پولیس اور لیویز فورس نے موقع پر پہنچ کر لاشوں کو اسپتال منتقل کیا۔ جاں بحق افراد کا تعلق بھی پنجاب سے تھا

مقبول مضامین

مقبول مضامین