رائل سوسائٹی کا اگلا فیلوشپ اجلاس 3 مارچ کو متوقع ہے، جہاں اس کے اراکین کے عوامی بیانات اور طرزِ عمل سے متعلق اخلاقی خدشات پر غور کیا جائے گا۔
سائنس دانوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد ایلون مسک کو رائل سوسائٹی سے خارج کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ 1,900 سے زائد ماہرین نے ایک کھلا خط دستخط کیا ہے، جس میں برطانیہ کے اس ممتاز سائنسی ادارے سے مسک کی فیلوشپ منسوخ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ یہ مطالبہ خاص طور پر مسک کے عوامی بیانات اور طرزِ عمل، سازشی نظریات کی ترویج اور متنازع تبصروں پر اٹھائے گئے خدشات کے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ خط پروفیسر اسٹیفن کری نے تحریر کیا اور رائل سوسائٹی کے صدر ایڈریان اسمتھ کو بھیجا، جس میں تنظیم کی مسلسل "خاموشی اور عدم کارروائی” پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔
خط میں کری نے اس بات پر تنقید کی کہ رائل سوسائٹی نے کوئی اقدام نہیں کیا، حالانکہ اس کے فیلوز نے چھ ماہ سے زیادہ عرصہ قبل اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے آکسفورڈ کی پروفیسر ڈوروتھی بشپ کے استعفے کا حوالہ دیا، جنہوں نے کہا تھا کہ مسک کی جانب سے سازشی نظریات کی توثیق اور معروف شخصیات، جیسے انتھونی فاؤچی، پر حملے سوسائٹی کے ضابطہ اخلاق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
کری نے لکھا:
"میں رائل سوسائٹی کی خاموشی اور بظاہر عدم فعالیت پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتا ہوں، جس نے 2018 میں ایلون مسک کو دی گئی فیلوشپ کے معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ مسک کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں کردار ایک اور باعثِ تشویش پہلو ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حالیہ ہفتوں میں نئی امریکی انتظامیہ نے سائنسی تحقیق پر حملہ کیا ہے۔
خط میں انتباہ کیا گیا کہ اگر رائل سوسائٹی نے مسک کے طرزِ عمل پر کوئی ردعمل نہ دیا تو یہ تنظیم خود ان کے اقدامات کی تائید کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ اس میں لکھا تھا: "کسی بھی ردعمل کی غیر موجودگی… بتدریج اخلاقی جرات کی ناکامی کی طرح دکھائی دینے لگی ہے۔”
رائل سوسائٹی کا متوقع اجلاس اور بڑھتی ہوئی مخالفت
اخبار دی گارڈین کے مطابق، رائل سوسائٹی کا آئندہ فیلوشپ اجلاس 3 مارچ کو ہوگا، جس میں اس کے اراکین کے عوامی بیانات اور طرزِ عمل سے متعلق اخلاقی خدشات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس بحث میں یہ سوال بھی شامل ہوگا کہ آیا ایلون مسک کو اپنی فیلوشپ برقرار رکھنے دی جائے یا نہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مسک کی رکنیت پر اعتراض کیا گیا ہو۔ اگست 2024 میں، کئی ماہرین نے ان کے برطانیہ میں بدامنی سے متعلق تبصروں پر تنقید کی اور انہیں سوسائٹی کے اصولوں کے منافی قرار دیا۔ نومبر میں، آکسفورڈ کی نامور سائنس دان ڈوروتھی بشپ نے احتجاجاً رائل سوسائٹی سے استعفیٰ دے دیا، کیونکہ مسک اب بھی تنظیم کا حصہ تھے۔
جنوری 2025 میں، مسک نے کھل کر دائیں بازو کی جماعت ریفارم یوکے کی حمایت کی اور برطانوی عوام سے اس تحریک کی تائید کی اپیل کی۔ انہوں نے برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کو "بدی” قرار دیا اور ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے برطانوی حکام پر لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعات کو چھپانے کا الزام لگایا۔
ان کی سیاسی سرگرمیوں نے سائنسی برادری میں مزید تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا بیانیہ رائل سوسائٹی کے دیانت داری اور شواہد پر مبنی مکالمے کے اصولوں سے متصادم ہے۔

