جمعرات, فروری 12, 2026
ہومپاکستانپاکستان کا برطانوی سمز کے سنگین جرائم میں استعمال کا معاملہ برطانیہ...

پاکستان کا برطانوی سمز کے سنگین جرائم میں استعمال کا معاملہ برطانیہ سے اٹھانے کا فیصلہ
پ

اسلام آباد: پاکستان میں غیر ملکی موبائل سمز کے سنگین جرائم میں استعمال کا انکشاف ہوا ہے، جس کے تدارک کے لیے ملک گیر کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ڈی جی سائبر کرائم ایف آئی اے وقار الدین سید نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو ہراساں کرنے اور دیگر جرائم کے لیے غیر ملکی موبائل سمز استعمال کی جا رہی ہیں۔

جرائم میں غیر ملکی سمز کا استعمال

  • دہشت گردی، مالی فراڈ، چائلڈ پورنوگرافی سمیت دیگر سنگین جرائم میں غیر ملکی سمز کا استعمال سامنے آیا ہے۔
  • مارکیٹ میں یہ سمز عام دستیاب ہیں اور جرائم پیشہ افراد انہیں شناخت چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
  • پاکستان میں سب سے زیادہ انگلینڈ کی سمز جرائم میں استعمال ہو رہی ہیں۔
  • سوشل میڈیا پر بھی یہ غیر ملکی سمز فروخت کی جا رہی ہیں۔
  • بیرون ملک سے غیر قانونی طور پر سمز لانے والے قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

کریک ڈاؤن اور گرفتاریاں

  • ملک بھر میں غیر ملکی سمز کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔
  • اب تک 44 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور بڑی تعداد میں غیر ملکی سمز برآمد ہوئی ہیں۔
  • برطانیہ کی 8,000 سے زائد سمز ضبط کی جا چکی ہیں۔
  • دہشت گردی کے واقعات میں بھی یہی غیر ملکی سمز استعمال ہو رہی تھیں۔
  • پاکستان کا برطانیہ سے معاملہ اٹھانے کا فیصلہ
  • حکومت پاکستان برطانوی حکام سے اس مسئلے پر بات کرے گی۔
  • پی ٹی اے اس معاملے میں ایف آئی اے کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔
  • قانونی طور پر سمز استعمال کرنے والے صارفین کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
  • ایڈیشنل ڈی جی سائبر کرائم نے واضح کیا کہ پاکستان کی سلامتی اولین ترجیح ہے اور سنگین جرائم میں استعمال ہونے والی غیر ملکی سمز کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
مقبول مضامین

مقبول مضامین