سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ ملاقات میں کرپشن کے خاتمے اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور آئی ایم ایف وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، کرپشن کے خاتمے اور بیرونی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ صدر سپریم کورٹ بار نے ماتحت عدلیہ میں زیر التوا مقدمات کی نشاندہی کی اور آئی ایم ایف وفد کو ججز کی کم تعداد اور ثالثی نظام کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ اس ملاقات میں قانونی اصلاحات اور گڈ گورننس پر بھی گفتگو ہوئی، جہاں صدر سپریم کورٹ بار نے عدلیہ میں احتسابی نظام کی تفصیلات سے وفد کو آگاہ کیا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ صدر سپریم کورٹ بار نے عدالتی نظام میں پہلے سے موجود سزا و جزا کے نظام کی نشاندہی کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سپریم جوڈیشل کونسل اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے قائم ہے۔ ی نظام کی جانچ پڑتال کے لیے پاکستان میں ہے، جس نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات میں پروگرام کے نفاذ اور جائیداد کے حقوق سے متعلق تفصیلات طلب کی تھیں۔ اعلامیے کے مطابق، صدر سپریم کورٹ بار نے قانون کی حکمرانی کو ایک جمہوری معاشرے کی بنیاد قرار دیتے ہوئے آئین، اداروں کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی پر زور دیا۔ مزید کہا گیا کہ ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے اظہارِ تشکر کیا گیا اور مستقبل میں مزید ملاقاتوں کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ اس سے قبل 11 فروری کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی آئی ایم ایف وفد سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں چیف جسٹس نے واضح کیا تھا کہ عدلیہ کی آزادی کا حلف اٹھایا گیا ہے اور یہ عدلیہ کی ذمہ داری نہیں کہ وہ عالمی مالیاتی ادارے کو تمام تفصیلات فراہم کرے۔
آئی ایم ایف کی تکنیکی ٹیم اس وقت پاکستان میں 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ معاہدے کے سلسلے میں عدالتی اور ریگولیٹری نظام کی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کے دوران وفد نے پروگرام کے نفاذ اور جائیداد کے حقوق سے متعلق تفصیلات طلب کی تھیں۔

