پاکستان کے قرضوں میں تشویشناک اضافہ، مجموعی واجبات 88 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کے قرضے اور واجبات میں 6,106 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ملک پر مجموعی قرضوں کا حجم ریکارڈ 88 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے اہم نکات:
✅ دسمبر 2024 تک قرضوں اور واجبات کے اعداد و شمار جاری کر دیے گئے۔
✅ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں قرضوں میں 6,106 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
✅ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر 2024) میں قرضوں اور واجبات میں مزید 2,555 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
مقامی اور غیرملکی قرضوں کی تفصیلات:
📍 دسمبر 2024 تک:
🔹 مقامی قرضہ: 49,883 ارب روپے
🔹 غیرملکی قرضہ اور واجبات: 36,512 ارب روپے
📉 ماہرین کے مطابق، بڑھتے ہوئے قرضے ملکی معیشت پر سنگین دباؤ ڈال سکتے ہیں، اور مالیاتی پالیسی میں اہم اصلاحات کی ضرورت ہے۔پاکستان کے قرضے اور واجبات میں مسلسل اضافہ، مجموعی حجم 88 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات کے مطابق، دسمبر 2024 تک ملک پر غیرملکی واجبات 3,262 ارب روپے تک پہنچ گئے۔
قرضوں اور واجبات میں نمایاں اضافہ
✅ دسمبر 2023 میں مجموعی قرضے اور واجبات: 81,904 ارب روپے
✅ جون 2024 تک مجموعی قرضے اور واجبات: 85,455 ارب روپے
✅ دسمبر 2024 تک قرضوں اور واجبات کا حجم: 88,000 ارب روپے سے تجاوز کر گیا
📉 ماہرین کے مطابق، قرضوں میں مسلسل اضافے سے ملکی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری مالیاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

