پاکستان نے امریکا کی جانب سے بھارت کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جسے خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
📌 پاکستان کا ردِ عمل:
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ:
✅ امریکا کا یہ اقدام جنوبی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔
✅ پاکستان خطے میں اسلحے کی دوڑ کا مخالف ہے اور ہمیشہ امن و استحکام کا خواہاں رہا ہے۔
📌 وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کا دورہ امریکا
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیر خارجہ اسحٰق ڈار اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے 18 فروری کو نیویارک روانہ ہوں گے۔
📌 مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت
پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں دو کشمیری نوجوانوں کی شہادت اور ان کے اہلِ خانہ کی جائیدادوں پر قبضے کی شدید مذمت کی۔
✅ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت ملنا چاہیے۔
✅ عالمی برادری کو بھارتی مظالم کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ صورتحال جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور علاقائی سیاست پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے مختلف اہم امور پر روشنی ڈالی، جن میں لیبیا کشتی حادثہ، پاک-امریکا تعلقات، متحدہ عرب امارات میں ویزا پالیسی، اور افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی شامل ہیں۔
1. لیبیا کشتی حادثے میں 16 پاکستانیوں کی شناخت
ترجمان نے بتایا کہ:
✅ لیبیا میں کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے 16 پاکستانیوں کی شناخت ہوچکی ہے۔
✅ پاکستانی سفارتخانہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔
2. پاک-امریکا تعلقات اور غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی
✅ پاکستان اور امریکا کے دیرینہ تعلقات ہیں، جن میں مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے۔
✅ امریکا کی جانب سے غیر قانونی پاکستانی تارکین وطن کی واپسی کا معاملہ پاک-امریکا باہمی رابطے کا حصہ ہے۔
✅ ترجمان نے واضح کیا کہ کوئی بھی ملک غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجنے کا اختیار رکھتا ہے۔
3. متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کے ویزوں پر کوئی پابندی نہیں
✅ یو اے ای ہمارا تاریخی دوست ملک ہے اور دونوں ممالک کے قریبی تعلقات ہیں۔
✅ پاکستانی شہریوں کے لیے متحدہ عرب امارات میں ویزوں پر کوئی پابندی عائد نہیں۔
✅ اس وقت 18 لاکھ سے زائد پاکستانی یو اے ای میں مقیم ہیں اور ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
4. افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی پر تشویش
✅ ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی ایک سنگین مسئلہ ہے۔
✅ پاکستان نے مسلسل افغانستان سے ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا دورہ پاکستان
✅ وزیرِاعظم کی دعوت پر ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے دو روزہ سرکاری دورہ کیا۔
✅ صدر اردوان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، اور اس موقع پر وزیرِاعظم اور صدر مملکت سے اہم ملاقاتیں ہوئیں۔
✅ دورے کے دوران ترکیہ-پاکستان تعاون کونسل کے ساتویں اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔
✅ اجلاس کے اختتام پر مختلف معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط کیے گئے۔
✅ ترک سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں، جس سے دونوں ممالک کے معاشی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
ترکیہ-پاکستان تعلقات میں مزید وسعت
✅ ترک صدر نے قبرص کے مسئلے پر پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
✅ دونوں ممالک کے درمیان صدیوں پرانے گہرے مذہبی، ثقافتی، تہذیبی اور تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔
✅ ماضی میں بھی دونوں قوموں نے مشکل وقت میں مثالی بھائی چارے اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔
دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق
✅ پاکستان اور ترکیہ نے تمام شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
✅ دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، بینکنگ اور فنانس کے شعبے میں شراکت داری کو وسعت دینے پر اتفاق ہوا۔
✅ تعلیم، صحت، توانائی، ثقافت، مواصلات، زراعت، سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھی دوطرفہ تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔

