یہ خبر پاکستان کی اقتصادی پالیسی میں ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں (ڈسکوز) کے شیئرز صدرِ پاکستان کے نام منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام سے ڈسکوز کی نجکاری کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے، جس سے مستقبل میں ان اداروں کی ممکنہ فروخت یا شراکت داری کا راستہ ہموار ہوگا۔ اہم فیصلے:
- ڈسکوز کے شیئرز کی منتقلی: صدر پاکستان کے نام شیئرز منتقل ہونے سے حکومت کے پاس مزید اختیارات آ جائیں گے، جو نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
- نیو ڈیولپمنٹ بینک میں پاکستان کی شمولیت: برکس ممالک کے ذریعے قائم کردہ اس بینک میں پاکستان کی رکنیت کی منظوری دے دی گئی، جو ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی تعاون کا ایک نیا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
- بین الاقوامی جوائنٹ ٹریڈنگ کمپنی کا قیام: پاکستان اسٹیٹ آئل اور آذربائیجان کی اسٹیٹ آئل کمپنی کے اشتراک سے سنگاپور میں ایک بین الاقوامی تجارتی کمپنی قائم کرے گا، جس کا مقصد توانائی کے شعبے میں تجارتی مواقع کو فروغ دینا ہوگا۔
اجلاس میں شرکت:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے علاوہ وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر توانائی سردار اویس احمد لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک، وفاقی سیکریٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ یہ فیصلے پاکستان کی اقتصادی حکمت عملی کے اہم عناصر سمجھے جا رہے ہیں، جن کا اثر مستقبل میں توانائی، تجارتی اور مالیاتی شعبوں پر پڑے گا اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں وزارتِ تجارت کی تجویز پر ایک اور اہم فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے حالیہ نوٹیفائی کردہ لازمی اشیاء کے پی سی ٹی/ایچ ایس کوڈز کو درآمدی پالیسی آرڈر 2022 میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی۔ فیصلے کے اثرات:
✅ پی وی سی اور پولیمر مصنوعات کو لازمی ریگولیٹری دائرہ کار میں لایا جائے گا۔
✅ ان اشیاء کے معیار کو پاکستانی اسٹینڈرڈز کے مطابق یقینی بنایا جائے گا۔
✅ ناقص اور غیر معیاری مصنوعات کی درآمد کو روکا جا سکے گا، جس سے مقامی مارکیٹ میں معیاری مصنوعات کی دستیابی میں بہتری آئے گی۔
یہ اقدام پاکستان میں درآمدی اشیاء کے معیار کو سخت کرنے اور صارفین کو معیاری مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ایک کوشش ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے حالیہ اجلاس میں مختلف اہم فیصلے کیے گئے، جن میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے شیئرز کی منتقلی، بین الاقوامی تجارتی شراکت داری، اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی منظوری شامل ہے۔
1. ڈسکوز کے شیئرز کی صدرِ پاکستان کے نام منتقلی
- وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی تجویز پر ڈسکوز کے شیئرز صدرِ پاکستان کے نام منتقل کرنے کی مشروط منظوری دے دی گئی۔
- اس منتقلی کے کوئی مالی اثرات نہیں ہوں گے، یعنی یہ صرف انتظامی سطح پر ایک تبدیلی ہوگی۔
2. بین الاقوامی جوائنٹ ٹریڈنگ کمپنی کا قیام
- پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور آذربائیجان کی اسٹیٹ آئل کمپنی (SOCAR) کے اشتراک سے سنگاپور میں ایک بین الاقوامی جوائنٹ ٹریڈنگ کمپنی قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔
- کمیٹی نے وزارتِ پٹرولیم کو ہدایت دی کہ وہ سرمایہ کاری، ایکویٹی انجیکشن، اور کمپنی کے آپریشنل ہونے کے وقت سے متعلق مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کرے تاکہ مالی خطرات سے بچا جا سکے۔
3. ختم شدہ پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (PWD) کی اسکیموں کے فنڈز کی منتقلی
- وزارت خزانہ کی تجویز پر 133 پی ایس ڈی پی اسکیموں کے لیے مختص 19.15 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔
- یہ فنڈز متعلقہ وزارتوں، ڈویژنوں، اور صوبائی حکومتوں کو منتقل کیے جائیں گے تاکہ منصوبوں کی تکمیل ممکن ہو سکے۔
4. ایس ڈی جیز اچیومنٹ پروگرام کے تحت ترقیاتی اسکیمیں
- وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے لیے 5.36 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔
- ان فنڈز میں سندھ کے لیے 4.25 ارب روپے اور خیبرپختونخوا کے لیے 1.11 ارب روپے شامل ہیں۔
یہ تمام فیصلے حکومت کی اقتصادی، توانائی اور ترقیاتی پالیسیوں میں بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، جو معیشت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں پر اثر انداز ہوں گے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں مختلف اہم منصوبوں کے لیے مالی گرانٹس کی منظوری دی گئی، جن میں نادرا کے سٹیزن فیسلیٹیشن مراکز، صحت کے شعبے میں ادویات کی خریداری، صدارتی سیکریٹریٹ کے لیے نئی گاڑیاں، اور پاکستان بزنس پورٹل کا قیام شامل ہیں۔
1. نادرا کے لیے 1.914 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ
- یہ فنڈز خیبرپختونخوا میں فاٹا ٹی ڈی پی-ای آر پی منصوبے کے تحت 43 سٹیزن فیسلیٹیشن مراکز کی اپ گریڈیشن کے لیے استعمال ہوں گے۔
- یہ رقم اقتصادی امور ڈویژن نے سرنڈر کی تھی، اس لیے حکومت پر اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
2. وزارت قومی صحت کے لیے 50 کروڑ روپے
- اس رقم سے زندگی بچانے والی ادویات اور ویکسین کی خریداری کی جائے گی۔
- ای سی سی نے وزارت صحت کو ہدایت دی کہ مستقبل میں ایسی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مستقل مالیاتی منصوبہ بندی کی جائے۔
3. صدارتی سیکریٹریٹ کے لیے 8 کروڑ 40 لاکھ روپے
- یہ رقم پرانے سرکاری ٹرانسپورٹ کی جگہ نئی گاڑیاں خریدنے کے لیے مختص کی گئی ہے۔
- خریداری میں 2 ہینو کوسٹر منی بسیں اور 3 ٹویوٹا ہائی ایس وینز شامل ہیں۔
4. ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروجیکٹ (پارٹ II) کے لیے تکنیکی ضمنی گرانٹ
- اس گرانٹ سے پاکستان بزنس پورٹل قائم کیا جائے گا، جو سرمایہ کاری بورڈ کے تحت کام کرے گا۔
- اس کا مقصد:
✅ کاروباری قوانین کو آسان اور ہم آہنگ بنانا
✅ غیر ضروری قوانین کا خاتمہ
✅ کاروباری اداروں کے لیے جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کرنا
یہ اقدامات معیشت، صحت، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، اور حکومتی سہولیات کی بہتری میں اہم کردار ادا کریں گے۔

