بدھ, فروری 11, 2026
ہومپاکستانآئی ایم ایف کے وفد کی چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات: اندرونی...

آئی ایم ایف کے وفد کی چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات: اندرونی معاملات میں مداخلت یا قرض معاہدے کی مجبوری
آ

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے منگل (11 فروری) کو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے چھ رکنی خصوصی وفد نے ملاقات کی۔ سپریم کورٹ سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کے وفد نے جوئل ٹرکیوٹز کی قیادت میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی، جس دوران عدالتی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد، صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس نے بتایا کہ ’میں نے آئی ایم ایف کے وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے کے بارے میں آگاہ کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائیکورٹس کرتی ہیں۔‘ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ وفد نے کہا، ’ہم پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔‘ اس ملاقات کا مقصد آئی ایم ایف کے وفد کی جانب سے پاکستان کی عدلیہ کی کارکردگی میں بہتری لانے کے حوالے سے موجودہ اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے کے بارے میں آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائیکورٹس کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف وفد نے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ اور معاہدوں کی پاسداری کے حوالے سے بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے ان امور پر اصلاحات کے عمل کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور عدلیہ کی آزادی کا دفاع کیا، یہ بتاتے ہوئے کہ عدلیہ کا کام حکومت کی تفصیلات فراہم کرنا نہیں بلکہ اس کی آزادی کا تحفظ کرنا ہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے ہوئے قرض معاہدے میں کچھ اہم شرائط کو تسلیم کیا ہے، جن میں بنیادی طور پر مالیاتی گورننس، بدعنوانی کے خاتمے، اور قانون کی حکمرانی کی مضبوطی شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کے معاہدے کے تحت پاکستان نے عدلیہ میں اصلاحات کرنے کی بھی رضامندی ظاہر کی ہے، اور اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کے جائزے سے مشروط ہے کہ یہ اصلاحات کس طرح عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ وفد کے دورے کا مقصد یہ بھی ہے کہ وہ ان شعبوں کی کڑی نگرانی کرے، جن میں مالیاتی گورننس، سینٹرل بینک گورننس، مالیاتی شعبے کی نگرانی، مارکیٹ ریگولیشن، قانون کی حکمرانی اور اینٹی منی لانڈرنگ جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف کے وفد کا جائزہ ان شعبوں کے حکام سے ملاقاتوں کے ذریعے کیا جائے گا، جیسے کہ عدلیہ، سٹیٹ بینک، الیکشن کمیشن، فنانس اور ریونیو، اور ایس ای سی پی۔ اس پورے عمل کا مقصد پاکستان کے قرض معاہدے کی آئندہ قسط کی منظوری کے لیے ضروری شرائط کو پورا کرنا ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سات ارب ڈالر کے قرض معاہدے میں شامل شرائط نے مختلف اصلاحات کے لیے حکومت کو پابند کیا ہے۔ ان میں ٹیکس آمدنی میں اضافہ، مختلف شعبوں پر ٹیکس کی شرح بڑھانا اور نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت نے اینٹی کرپشن فریم ورک کو موثر بنانے کے لیے 2025 تک سول سروس ایکٹ میں ترمیم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ عوامی عہدیداروں کے اثاثوں کی ڈیجیٹل فائلنگ اور ان کی عوامی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ اقدامات پاکستان کے معاہدے کی شرائط کا حصہ ہیں اور ان کا مقصد انسداد بدعنوانی کے لیے اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے اقتصادی اصلاحاتی عمل میں اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام کاروباری اور سرمایہ کاری کے مواقع غیر امتیازی طریقے سے فراہم کیے جائیں۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف اقتصادی استحکام حاصل کرنا ہے بلکہ پاکستان کے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات کو بھی مضبوط بنانا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین