اقوام متحدہ میں، پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، مجید بریگیڈ اور داعش کے بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرے کا سنجیدگی سے نوٹس لے، خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطرہ صرف افغانستان اور پاکستان تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے اور اس سے آگے بھی پھیل رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس "دہشت گردی سے پیدا ہونے والے بین الاقوامی امن و سلامتی کے خطرات” کے دوران، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے بحران کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کر دیا کہ داعش کی بھرتیاں پاکستان میں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دو درجن سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں اور یہ ملک داعش کی بھرتی اور سہولت کاری کا "مرکزی مرکز” بن چکا ہے۔ منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر القاعدہ جیسے گروہوں کو کامیابی سے ختم کیا، لیکن اب بھی ٹی ٹی پی، داعش اور مجید بریگیڈ جیسے گروہوں کے سرحد پار محفوظ ٹھکانوں سے لاحق خطرات کا سامنا کر رہا ہے انہوں نے عالمی برادری کی توجہ ان گروہوں کی سرگرمیوں کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں ان کی موجودگی اور کارروائیاں واضح طور پر درج ہیں، جنہیں فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی سفیر نے ہر شکل میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے عالمی انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بھاری قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے 80,000 سے زائد بے گناہ جانوں کی قربانی دی اور معیشت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

