بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیلیبیا کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے کا المناک واقعہ، 16 پاکستانی...

لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے کا المناک واقعہ، 16 پاکستانی جاں بحق
ل

لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی حادثہ، 16 پاکستانی جاں بحق

لیبیا کے ساحل کے قریب پیش آنے والے کشتی حادثے میں 16 پاکستانی جاں بحق ہو گئے، جبکہ 37 افراد کو بچا لیا گیا اور تقریباً 10 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ یہ کشتی، جس میں مجموعی طور پر 65 افراد سوار تھے، بحیرہ روم میں الٹ گئی، جس کے بعد طرابلس میں پاکستانی سفارتخانے نے فوری کارروائی کی۔ پاکستانی سفارتخانے کی ایک ٹیم نے زاویا شہر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مقامی حکام اور اسپتال انتظامیہ سے ملاقات کی تاکہ مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس حوالے سے دفتر خارجہ (ایف او) نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے۔

لیبیا کشتی حادثہ: جاں بحق افراد کی تفصیلات

لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے 16 پاکستانیوں کی شناخت ان کے پاکستانی پاسپورٹس کے ذریعے کی گئی۔ زیادہ تر افراد کا تعلق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع، خاص طور پر کرم، باجوڑ اور اورکزئی سے تھا۔ جاں بحق ہونے والے افراد کی فہرست:

  • سقلین حیدر (کرم، خیبرپختونخوا)
  • سراج الدین (باجوڑ، خیبرپختونخوا)
  • شعیب حسین (کرم، خیبرپختونخوا)
  • نصرت حسین (کرم، خیبرپختونخوا)
  • شعیب علی (کرم، خیبرپختونخوا)
  • سید شہزاد حسین (کرم، خیبرپختونخوا)
  • عابد حسین (کرم، خیبرپختونخوا)
  • آصف علی (کرم، خیبرپختونخوا)
  • محمد علی شاہ (اورکزئی، خیبرپختونخوا)
  • مصور حسین (کرم، خیبرپختونخوا)
  • اسور حسین (کرم، خیبرپختونخوا)
  • عابد حسین (کرم، خیبرپختونخوا)
  • مصیب حسین (کرم، خیبرپختونخوا)
  • انیس خان (پشاور، خیبرپختونخوا)
  • اشفاق حسین (کرم، خیبرپختونخوا)
  • شاہد حسین (کرم، خیبرپختونخوا)

زندہ بچ جانے والے افراد کی صورتحال

حادثے میں زندہ بچ جانے والوں میں:

  • ایک فرد اسپتال میں زیر علاج ہے
  • 33 افراد لیبیا کی پولیس کی تحویل میں ہیں
  • 3 افراد کو طرابلس میں پاکستانی سفارتخانے کی مدد حاصل ہے

پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو مدد فراہم کی جا سکے اور زندہ بچ جانے والوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔

حکومتی اقدامات اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن

حکومت نے اس افسوسناک واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور لیبیا کے حکام کے ساتھ مزید معلومات کے تبادلے کے لیے رابطے میں ہے۔ یہ سانحہ 16 جنوری کو مراکش کے قریب پیش آنے والے اسی نوعیت کے حادثے کے بعد پیش آیا، جس میں 45 سے زائد پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے انسانی اسمگلنگ کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر نوٹس لیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) کو اس مکروہ دھندے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔

ایف آئی اے نے انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بدنامِ زمانہ اسمگلنگ گروہوں کو بے نقاب کیا جا رہا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، 60 سے زائد ایف آئی اے افسران، جو انسانی اسمگلنگ میں ملوث تھے، برطرف کر دیے گئے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین