بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامی40 سال قبل جاپان کا وہ دورہ جس نے ٹرمپ کی آج...

40 سال قبل جاپان کا وہ دورہ جس نے ٹرمپ کی آج کی تجارتی پالیسی تشکیل دی
4

جب 90 کی دہائی میں ٹرمپ کی مالی حالت خراب ہوئی

90 کی دہائی میں، جب ڈونلڈ ٹرمپ کی مالی حالت خراب ہوئی اور انھیں فوراً پیسوں کی ضرورت پیش آئی، تو انھوں نے اپنی 282 فٹ لمبی سپر یاٹ ٹرمپ پرنسس کو ایشیا بھیجا۔ مقصد یہ تھا کہ جاپان کے امیر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جا سکے اور انھیں اپنی یاٹ دکھا کر سرمایہ کاری کے لئے راغب کیا جا سکے۔ یہ قدم اس وقت کی مالی مشکلات کے دوران ٹرمپ کے لئے ایک حل ثابت ہوا۔

ٹرمپ اور جاپانی سرمایہ کار

یہ پہلا موقع نہیں تھا جب ٹرمپ نے جاپانی خریداروں یا قرض دہندگان سے مدد مانگی تھی۔ 80 کی دہائی کے آخر میں، ٹرمپ نے نیویارک میں اپنی ففتھ ایونیو کی عمارت سے جاپانی لوگوں کو امریکی برانڈز اور جائیدادیں خریدتے ہوئے دیکھا، جن میں مشہور راک فیلر سینٹر بھی شامل تھا۔ جاپانی سرمایہ کاروں کی دلچسپی نے ٹرمپ کے کاروباری ماڈل کو متاثر کیا اور انھیں بین الاقوامی سطح پر توسیع کرنے کی تحریک دی۔

ٹرمپ کا نظریہ اور تجارتی پالیسی

یہ وہ وقت تھا جب ٹرمپ نے اپنے کاروباری اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے ایک نیا نظریہ قائم کیا۔ جاپانی سرمایہ کاروں کی موجودگی اور ان کی امریکہ میں جائیدادوں کی خریداری نے ٹرمپ کو عالمی تجارت اور مالی پالیسیوں پر غور کرنے پر مجبور کیا۔ اس دوران انھیں یہ سمجھ میں آیا کہ امریکہ کو اپنی اقتصادی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لئے ٹیرف (یعنی درآمدات پر ٹیکس) جیسے اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ سوچ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کی بنیاد بنی، جس میں انہوں نے اپنی دوسری مدت میں امریکہ کے تجارتی مفادات کو فروغ دینے کے لئے سخت موقف اپنایا۔ ان کے ذہن میں یہ تھا کہ جاپان کی طرح دوسرے ممالک بھی امریکی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کر کے امریکہ کو تجارتی خسارے سے نکالنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

ٹرمپ کا جاپان پر غصہ اور کاروباری حسد

ٹرمپ آرگنائزیشن میں سابق ایگزیکٹو نائب صدر باربرا ریس کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو جاپان پر بہت غصہ تھا۔ وہ جاپانی کاروباری افراد کو ذہین سمجھا جانے پر حسد محسوس کرتے تھے اور انھیں یہ فکر ہوتی تھی کہ امریکہ جاپان کی فوجی مدد کے بدلے میں زیادہ کچھ حاصل نہیں کر رہا۔

ٹرمپ کی شکایات اور تجارتی مشکلات

ٹرمپ اکثر شکایت کرتے تھے کہ انھیں جاپانی کاروباری افراد کے بڑے گروپوں کے ساتھ معاہدے کرنے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں دوسرے ممالک کو امریکہ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے دیکھ کر تھک گیا تھا۔”

یہ بات 2016 میں ان کے ایک بیان کے طور پر مشہور ہوئی، لیکن حقیقت میں یہ الفاظ انھوں نے 80 کی دہائی کے آخر میں کہے تھے، جب وہ سی این این کے لری کنگ لائیو پر آئے تھے اور اس دوران انھوں نے پہلی بار اپنا نام ممکنہ صدارتی امیدوار کے طور پر پیش کیا تھا۔

ٹرمپ کا تجارتی فلسفہ اور اوپرا کے ساتھ انٹرویو

1987 میں اپنی کتاب دی آرٹ آف دی ڈیل میں اپنے کاروباری فلسفے کو شیئر کرنے کے بعد، ٹرمپ نے قومی انٹرویوز میں امریکہ کی تجارتی پالیسیوں پر شدید تنقید شروع کی۔ اوپرا ونفری کے ساتھ لائیو سٹوڈیو آڈینس کے سامنے دیے گئے انٹرویو میں، انھوں نے کہا کہ وہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کو مختلف انداز میں چلائیں گے اور اپنے اتحادیوں کو "ان کا مناسب حصہ ادا کرنے” پر مجبور کریں گے۔

آزاد تجارت کے بارے میں ٹرمپ کا نظریہ

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جب جاپان امریکہ کی مارکیٹ میں مصنوعات "ڈمپ” کر رہا تھا لیکن اپنے ملک میں کاروبار کرنا "ناممکن” بناتا تھا، تو یہ آزاد تجارت نہیں تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اس نوعیت کی پالیسیوں سے امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ ان میں تبدیلی لانا چاہتے تھے۔

ٹرمپ کی معیشت اور جاپان سے متعلق فکروں کی عکاسی

جینیفر ملر، جو ڈارٹماؤتھ کالج میں تاریخ کی پروفیسر ہیں، کہتی ہیں کہ اس وقت دوسرے لوگ بھی معیشت کے بارے میں ٹرمپ کی فکر سے اتفاق کرتے تھے۔ جاپان نے امریکی صنعتوں کے لیے مقابلہ کی فضا بنائی، خاص طور پر الیکٹرانکس اور گاڑیوں کے شعبے میں۔ اس وقت جب امریکی کارخانے بند ہو رہے تھے اور جاپان کے نئے برانڈز مارکیٹ میں آ رہے تھے، ماہرین کا کہنا تھا کہ جاپان جلد ہی امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔

ٹرمپ کی قیادت پر سوالات

پروفیسر ملر کہتی ہیں کہ "ٹرمپ ایسے بہت سے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو یہ سوال کر رہے تھے کہ کیا امریکہ کی قیادت واقعی دنیا کے مفاد میں ہے۔”

ٹرمپ کا ’اوپن لیٹر‘ اور امریکی خارجہ پالیسی

اوپرا کے شو پر آنے سے پہلے، ٹرمپ نے تین بڑے امریکی اخبارات میں اپنے "اوپن لیٹر” کے لیے تقریباً ایک لاکھ ڈالر خرچ کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان اور دوسرے ممالک دہائیوں سے امریکہ کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ جاپان نے امریکہ کی دفاعی مدد (کیونکہ امریکہ ان کے لیے یہ کام مفت میں کر رہا ہے) کا فائدہ اُٹھا کر ایک مضبوط معیشت بنا لی ہے جس سے وہ خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ٹرمپ کا حل: امیر ممالک پر ’ٹیکس‘ لگانا

ٹرمپ کا خیال تھا کہ اس کا حل ان امیر ممالک پر ’ٹیکس‘ لگانا ہوگا تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور امریکہ کو ان کے تعاون کا صحیح بدلہ ملے۔

ٹرمپ کی تجارتی پالیسی اور جاپان سے تعلقات

1. ٹرمپ کا جاپان پر غصہ اور تحفظات: ٹرمپ نے جاپان کی جانب اپنے غصے کا اظہار کیا تھا اور انھیں یہ احساس ہوتا تھا کہ جاپانی کاروباری افراد امریکہ کے اتحادی ہونے کے باوجود امریکی مفادات کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق جاپان امریکہ کی دفاعی مدد کا فائدہ اُٹھا کر ایک مضبوط معیشت بنا رہا تھا، جب کہ امریکہ اس سے کوئی فائدہ نہیں حاصل کر رہا تھا۔

2. ٹرمپ کی تجارتی پالیسی: ٹرمپ نے اپنی پالیسی کے تحت یہ کہا کہ امریکہ کو زیادہ سخت اور تحفظ پسند تجارتی پالیسی اپنانی چاہیے، تاکہ دوسرے ممالک کو اپنے منافع کے لیے امریکہ کا فائدہ اُٹھانے سے روکا جا سکے۔

3. ٹرمپ اور ٹیرف: پروفیسر ملر کے مطابق، ٹرمپ کو ٹیرف سے دلچسپی تھی کیونکہ وہ اپنے کاروباری خیالات اور "کامیاب ڈیل میکر” کے طور پر اپنے تصور کے ساتھ اس کی ہم آہنگی دیکھتے تھے۔ ٹیرف کو وہ دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ سمجھتے تھے۔

4. تجارتی نظریات پر تنقید: کلیڈ پریسٹ وٹز جیسے تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کے تجارتی نظریات کا کوئی عملی حل نہیں تھا۔ ان کے خیال میں ٹیرف ایک نمائشی چیز ہیں، جنہیں لاگو کر کے کسی سیاست دان کو سخت نظریات والا ظاہر کیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے زیادہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

5. موجودہ تجارتی چیلنجز: مائیکل سٹرین کے مطابق، ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں میں غیر ملکی درآمدات کو نقصان دہ سمجھنا اور تجارتی خسارے کو کامیابی کی نشانی سمجھنا، یہ سوالات اب بھی برقرار ہیں اور ان پر بحث جاری ہے۔

6. ٹرمپ کا مقصد: ٹرمپ کا مقصد امریکہ کی مقامی صنعت خاص طور پر ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا تھا، اور ان کا خیال تھا کہ ٹیرف کے ذریعے مزید کمپنیوں کو امریکہ میں لایا جا سکتا ہے۔ انھیں یقین تھا کہ آزاد تجارت کے بجائے منصفانہ تجارت ضروری ہے۔

7. ریپبلکن ردعمل: کچھ ریپبلکن ارکان نے ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت کی، تاہم کچھ نے خاموشی اختیار کی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اثر عوامی حلقوں پر پڑے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین