بدھ, فروری 11, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ کا بحریہ ٹاؤن

ٹرمپ کا بحریہ ٹاؤن
ٹ

وسعت اللہ خان , جس کے ہاتھ میں ہتھوڑا ہو، اسے ہر مسئلہ کیل نظر آتا ہے۔

ایک قصائی جانور کو محض گوشت کے حصوں میں تقسیم کر کے دیکھتا ہے۔ کبھی کسی قصائی کے منہ سے سنا ہے کہ وہ کسی جانور کو خوبصورت کہہ کر پالنے کی خواہش کرے؟ اسی طرح، کسی بلڈر کو کسی سرسبز وادی میں لے جائیں، تو وہ پہلا سوال یہی کرے گا: اس زمین کا مالک کون ہے؟ کیا اسے خریدا یا ہتھیایا جا سکتا ہے؟ یہاں کتنے پلاٹ نکالے جا سکتے ہیں؟ وہ شاید ہی وادی کے فطری حسن، پرندوں، درختوں یا کھیلتے بچوں پر غور کرے۔

یہی نظریہ غزہ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جو لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کے فلسطین مخالف بیانات پر حیران ہیں، کیا انہوں نے کبھی 70 اور 80 کی دہائی کی فلمیں نہیں دیکھیں؟ ان میں بلڈر یا لینڈ مافیا غریبوں کی بستیاں اجاڑ کر وہاں عالیشان عمارتیں تعمیر کرنے کا منصوبہ بناتے تھے۔ جو قابو میں نہ آئے، انہیں جیل، سازش یا کرائے کے قاتلوں کے ذریعے راستے سے ہٹا دیا جاتا تھا۔ اگر پھر بھی جگہ خالی نہ ہو تو اچانک آدھی رات کو آگ لگ جاتی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی ایک بلڈر ہیں، جنہیں 70 کی دہائی میں ان کے والد نے زمین کے کاروبار میں لگ بھگ ایک ملین ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری دی۔ انہوں نے نیویارک میں حکومتی مدد سے کئی قیمتی زمینیں حاصل کیں اور انہیں فلک بوس عمارتوں میں بدل دیا، جیسے 1980 کی دہائی میں "ٹرمپ ٹاور”۔ اب غزہ کو بھی ٹرمپ کی بلڈرز کی نظر سے دیکھیے۔ اگر یہاں موجود 23 لاکھ لوگ کسی بھی طرح ہٹا دیے جائیں تو بحیرہ روم کے نیلے ساحل پر دنیا کا سب سے شاندار رئیل اسٹیٹ پروجیکٹ بن سکتا ہے۔ یہاں فائیو اسٹار ہوٹل، لگژری ولاز، یاٹ کلب، سیلیکون ویلی جیسا ٹیک ہب اور ایلون مسک کے اسپیس ایکس لانچنگ پیڈ بن سکتے ہیں۔ یہاں کے سمندر سے تیل و گیس نکالی جا سکتی ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ خوابوں کی جگہ بن سکتی ہے۔

یہ سب نیا نہیں۔ امریکہ نے تاریخ میں کئی بار زبردستی زمینیں ہتھیائی ہیں

1803 میں فرانس سے "لوزیانا” خرید کر امریکا کا رقبہ دوگنا کیا۔

1867 میں روس سے الاسکا خریدا۔

1893 میں ہوائی کی ریاستی ملکہ کو خریدنے کی کوشش کی، انکار پر بزور طاقت قبضہ کر لیا۔

1898 میں اسپین سے فلپائن لے لیا۔

1917 میں ڈنمارک سے ورجن آئی لینڈ خریدا۔

تو کیا غزہ بھی ایسی ہی کسی سودے بازی کا شکار ہو سکتا ہے؟

برطانیہ نے 1917 میں بالفور ڈیکلیریشن میں فلسطین یہودیوں کو دینے کا وعدہ کیا تھا، حالانکہ یہ زمین سلطنت عثمانیہ کے زیرِ انتظام تھی۔ آج وہی تاریخ کسی اور انداز میں دہرائی جا رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کے ادارے، عرب ممالک اور مسلم دنیا اگر شور مچاتے بھی رہے، تو کیا فرق پڑے گا؟ آخرکار، جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس کے اصول پر ہی نیا ورلڈ آرڈر قائم ہو رہا ہے۔ اگر سمجھ نہیں آ رہی تو ٹرک کے پیچھے لکھی عبارت پر نظر ڈالیں: پاس کر، ورنہ برداشت کر

مقبول مضامین

مقبول مضامین