بدھ, فروری 11, 2026
ہومپاکستاننادرا نے بایومیٹرک تصدیق کیلیے فیشل ریکگنیشن متعارف کرا دی

نادرا نے بایومیٹرک تصدیق کیلیے فیشل ریکگنیشن متعارف کرا دی
ن

اسلام آباد (مشرق نامہ) – نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے بایومیٹرک تصدیق کے نظام میں فیشل ریکگنیشن پر مبنی سہولت متعارف کرا دی ہے، جس کے ذریعے شناخت کی تصدیق تک ڈیجیٹل ذرائع سے رسائی کو مزید وسعت دے دی گئی ہے۔

نادرا کے ترجمان کے مطابق قومی شناختی کارڈ سے متعلق قوانین میں ترامیم کے بعد بایومیٹرک تصدیق کے دائرہ کار کو بڑھایا گیا ہے، جس کے تحت اب شہری پاک-آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے فیشل ریکگنیشن کے ذریعے بایومیٹرک تصدیق کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔

ترجمان نے بتایا کہ 20 جنوری سے نادرا رجسٹریشن مراکز بھی فیشل ریکگنیشن کی بنیاد پر بایومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹس جاری کرنا شروع کر دیں گے۔ یہ سرٹیفکیٹ معمولی فیس کے عوض کسی بھی وقت حاصل کیا جا سکے گا۔

ان معاملات میں جہاں فنگر پرنٹس کے ذریعے تصدیق ممکن نہ ہو، درخواست گزار کو قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز سے رجوع کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔ فیشل ریکگنیشن کی کامیاب تکمیل کے بعد اتھارٹی بایومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹ جاری کرے گی۔

سرٹیفکیٹ میں حامل فرد کی تصویر، قومی شناختی کارڈ نمبر، نام، والد کا نام، ایک منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ شامل ہوگا۔ نادرا نے سرکاری اور نجی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس نئی تصدیقی سہولت کو اپنانے اور تسلیم کرنے کے لیے ضروری انتظامات کریں۔

ترجمان کے مطابق ڈیجیٹل آئی ڈی کے اجرا کے بعد فیشل ریکگنیشن کی یہ سہولت بھی پاک-آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے دستیاب ہوگی۔

ادھر نادرا نے انکشاف کیا ہے کہ 2025 کے دوران 60 لاکھ سے زائد شہریوں نے پاک-آئی ڈی ایپ کے ذریعے اپنے شناختی دستاویزات حاصل کیے، جو ڈیجیٹل سرکاری خدمات پر عوامی اعتماد میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔

نادرا نے ایک بیان میں پاک-آئی ڈی پلیٹ فارم پر اعتماد کرنے پر شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس ایپ نے شناخت سے متعلق خدمات تک رسائی کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے اور ملک بھر میں ڈیجیٹل سہولتوں کو فروغ دیا ہے۔

اتھارٹی کے مطابق پاک-آئی ڈی ایپ کے بڑھتے ہوئے استعمال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ نظام رجسٹریشن کے عمل کو مؤثر بنانے اور پاکستان میں عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کے قومی ہدف میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین